ایک بیان میں ثمر ہارون بلور کا کہنا تھا کہ مفتی محمود مرکز سے متعلق اہم دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کے مطابق مرکز کی تعمیر میں لیبیا سے حاصل ہونے والی رقم استعمال ہوئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر تعمیر کے لیے بیرون ملک سے رقم فراہم کی گئی تو جائیداد کی ملکیت مولانا فضل الرحمان کے نام پر کیسے ہے۔

مشیر اطلاعات نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مفتی محمود مرکز کی بیرونی تعمیرات سرکاری رائٹ آف وے کی اراضی پر قائم ہیں اور یہ تعمیرات تجاوزات کے زمرے میں آتی ہیں، متعلقہ انتظامیہ کو اس معاملے پر پہلے بھی نوٹس جاری کیے گئے، تاہم تجاوزات برقرار رہیں۔

ثمر ہارون بلور کا کہنا تھا کہ 2019 میں نوٹس جاری ہونے کے باوجود مفتی محمود مرکز کی انتظامیہ نے مبینہ تجاوزات ختم نہیں کیں، جبکہ مئی 2026 میں بھی اس حوالے سے ایک اور نوٹس دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اراضی پر قائم تجاوزات کے خاتمے اور زمین واگزار کرانے کے لیے قانون کا نفاذ یقینی بنایا جانا چاہیے۔

بیان میں ثمر ہارون بلور نے سہیل آفریدی کے قریبی ساتھی حادی پتنگ پر بھی الزام عائد کیا کہ انہوں نے سرکاری محکموں میں پوسٹنگ اور تبادلوں کے لیے مبینہ طور پر اربوں روپے وصول کیے اور بعد ازاں فرار ہوگئے۔

ثمر ہارون بلور کے بیان میں عائد کیے گئے الزامات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ مولانا فضل الرحمان، مفتی محمود مرکز کی انتظامیہ اور حادی پتنگ کا مؤقف بھی اس بیان میں شامل نہیں ہے۔