پشاور میں جے یو آئی فاٹا کے زیر اہتمام سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک طویل عرصے سے قبائلی علاقوں کو تجربہ گاہ بنایا گیا ہے اور اب انہیں دوبارہ اسی پوزیشن میں لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کے سیاسی اور آئینی مستقبل کے حوالے سے ان کی جماعت کا ایک واضح مؤقف رہا ہے، لیکن حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی اختلاف کو الزام تراشی اور کردار کشی کے بجائے دلیل سے جواب دے اور عوام کے خدشات دور کرے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہیں اعلیٰ سطحی حکومتی شخصیات نے براہ راست بتایا ہے کہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا فیصلہ غلط تھا اور وہ اسے ختم کرکے سابقہ انتظامی حیثیت بحال کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ماضی میں انضمام کے فیصلے کے وقت ان کی جماعت کے تحفظات کا جواب کیوں نہیں دیا گیا اور اب دوبارہ قبائلی علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے کے پیچھے کون سے مفادات کارفرما ہیں؟
جے یو آئی سربراہ نے اس حوالے سے بیرونی طاقتوں کے اثر و رسوخ کا بھی الزام عائد کیا اور کہا کہ قبائلی عوام کے سیاسی اور آئینی مستقبل سے متعلق فیصلے کسی بیرونی مفاد کے تحت نہیں ہونے چاہییں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انضمام کے تقریباً دس سال بعد بھی قبائلی علاقوں میں مکمل بندوبستی نظام قائم نہیں ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ وہاں پٹواری نظام نافذ نہیں ہوسکا، قانون نافذ کرنے کا مؤثر نظام تشکیل نہیں دیا جاسکا اور کئی پشتوں سے چلی آنے والی اجتماعی جائیدادوں کے معاملات بھی حل طلب ہیں۔ پولیس کا نظام بھی مکمل طور پر منظم نہیں ہوسکا، جب کہ انتظامی افسران کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
جے یو آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کے معاملے کو صرف سیاسی یا آئینی تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے، کیونکہ آج اصل مسئلہ وہاں کے وسائل اور معیشت کا ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت نے ریلیف نہ دیا تو نومبر کے وسط میں لانگ مارچ ہوگا، لیاقت بلوچ
انہوں نے کہا کہ ماضی کے فیصلوں کو اس وقت کے حالات کے مطابق دیکھا جائے، جب کہ موجودہ صورت حال کا تجزیہ آج کے حالات اور مفادات کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ سرزمین اللہ کی نعمت اور قوم کی امانت ہے، جس کی حفاظت، خوشحالی اور ترقی کے لیے دیانت داری سے کام کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ قبائلی علاقوں کے مستقبل سے متعلق خدشات اور سوالات کا جواب دیا جائے اور سیاسی اختلاف رکھنے والوں کو الزام تراشی اور کردار کشی کا نشانہ بنانے کے بجائے اعتماد میں لیا جائے۔







