ایک ایسا خطہ جہاں دور دور تک ریت کے ٹیلے ہوں، تپتی دھوپ ہو، میلوں پھیلے بیابان ہوں، جہاں زندگی کی رفتار شہروں کی چکاچوند سے بہت دور ہو، جہاں کے باسیوں کی دنیا کھیتی باڑی، مویشی پالنے اور روزمرہ کی جدوجہد تک محدود ہو۔ نہ سیاحت کا کوئی بڑا تصور، نہ دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا کوئی میگا ایونٹ اور نہ ہی اس خطے کی شناخت کے لیے کوئی ایسا پلیٹ فارم جس پر اس کا نام قومی سطح پر لیا جاتا۔ لیکن پھر اسی خاموش صحرا میں ایک دن ایسا شور اٹھا جس نے ریت کے ان ٹیلوں کو پاکستان بھر میں متعارف کروا دیا۔ جہاں کبھی صرف ہواؤں کی سنسناہٹ سنائی دیتی تھی، وہاں طاقتور انجنوں کی گھن گرج، گاڑیوں کے اڑتے بادل، ہزاروں تماشائیوں کا شور اور رنگا رنگ میلوں نے ایک نئی دنیا آباد کر دی۔ یہ کہانی ہے صحرائے تھل کی، یہ داستان ہے کوٹ ادو سے مظفرگڑھ تک پھیلے اس خطے کی، جس کی تقدیر بدلنے میں تھل جیپ ریلی نے اہم کردار ادا کیا۔ آج اسی سفر کا گیارہواں باب رقم ہونے جا رہا ہے، جسے دنیا گیارہویں تھل ڈیزرٹ جیپ ریلی کے نام سے جانتی ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تھل کا صحرا کبھی غیر آباد نہیں تھا۔ یہاں صدیوں سے انسان بستے آئے ہیں۔ ان بستیوں میں زندگی کے اپنے رنگ، اپنی روایات اور اپنی مشکلات رہی ہیں۔ کہیں ریت کے ٹیلوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے گاؤں آباد تھے، کہیں بارانی زراعت اور مویشی پالنا لوگوں کا ذریعہ معاش تھا، تو کہیں پانی کی کمی، بنیادی سہولیات کا فقدان اور ذرائع آمدورفت کی مشکلات زندگی کا حصہ تھیں۔ اس خطے کی اپنی ثقافت، اپنی زبان، اپنے لوک گیت، اپنی مہمان نوازی اور اپنی تاریخی شناخت تھی، لیکن اس سب کے باوجود تھل کی اصل صلاحیت اور سیاحتی اہمیت قومی سطح پر پوری طرح سامنے نہیں آ سکی تھی۔ مسئلہ یہ تھا کہ دنیا اس خطے کو دیکھنے اور سمجھنے کے لیے یہاں پہنچ ہی نہیں رہی تھی۔
پھر پنجاب میں ایک ایسے ایونٹ کا تصور سامنے آیا جس نے صحرا کو سیاحت اور موٹر اسپورٹس کے ساتھ جوڑنے کی راہ ہموار کی۔ اس تصور کی بنیاد دراصل چولستان جیپ ریلی کی کامیابی میں موجود تھی۔ ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پنجاب (TDCP) نے 2005ء میں چولستان کے صحرا میں جیپ ریلی کا آغاز کیا تھا۔ اس ایونٹ نے ثابت کیا کہ پاکستان کے صحرائی علاقے صرف ریت کے ٹیلے نہیں بلکہ ایڈونچر ٹورازم، کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے بھی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چولستان کی کامیابی کے بعد جنوبی پنجاب کے دوسرے صحرائی خطے تھل کے لوگوں میں بھی ایسی ہی سرگرمی کے انعقاد کی خواہش پیدا ہوئی۔
تھل جیپ ریلی کا باقاعدہ تصور کسی ایک شخص کی ذاتی کاوش کے بجائے مقامی مطالبے، سرکاری منصوبہ بندی اور انتظامی تعاون کے نتیجے میں عملی شکل اختیار کر گیا۔ ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پنجاب نے اس منصوبے کی سرپرستی کی، جبکہ اس وقت کے ٹی ڈی سی پی کے منیجنگ ڈائریکٹر احمر ملک نے 2016ء میں تھل کے صحرائی علاقے میں پہلی جیپ ریلی کے انعقاد کا اعلان کیا۔ اس منصوبے میں مظفرگڑھ اور لیہ کی ضلعی انتظامیہ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس وقت کے ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن آفیسر شوکت علی نے پہلے ایونٹ کے انتظامات کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا تھا۔ یوں ایک خواب کو عملی شکل دینے کے لیے سرکاری اداروں، ضلعی انتظامیہ اور مقامی لوگوں نے مل کر کام شروع کیا۔
نومبر 2016ء میں جب پہلی تھل جیپ ریلی کا انعقاد ہوا تو شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ چھوٹا سا آغاز مستقبل میں جنوبی پنجاب کے ایک بڑے سیاحتی اور ثقافتی میلے کی شکل اختیار کر جائے گا۔ ابتدائی ریلی کا ٹریک تقریباً 160 کلومیٹر پر مشتمل تھا، جو ہیڈ محمد والا سے شروع ہو کر لیہ کی حدود تک پھیلا ہوا تھا۔ اس پہلے ایونٹ میں تقریباً 65 گاڑیوں نے حصہ لیا۔ ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے ڈرائیوروں نے ریت کے دشوار گزار راستوں پر اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ سلطان محمد علی نے اس پہلی ریلی کی انٹرنیشنل کیٹیگری میں کامیابی حاصل کی اور انہیں 15 لاکھ روپے کا انعام دیا گیا۔ فیصل اسٹیڈیم مظفرگڑھ میں تقریب تقسیم انعامات منعقد ہوئی، جس میں مقامی فنکاروں نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ یہ صرف ایک ریس نہیں تھی بلکہ تھل کے صحرا کو دنیا کے سامنے متعارف کروانے کا پہلا بڑا قدم تھا۔
پہلی ریلی کے بعد اس خطے کی پہچان میں تبدیلی کا ایک نیا سفر شروع ہوا۔ جس علاقے میں کبھی باہر سے آنے والے لوگوں کی تعداد محدود ہوتی تھی، وہاں اب ملک کے مختلف شہروں سے جیپ ریلی دیکھنے کے لیے لوگ پہنچنے لگے۔ صحرا کے وہ مقامات جہاں پہلے صرف مقامی آبادی کی آمدورفت دکھائی دیتی تھی، وہاں گاڑیوں کے قافلے، سیاحوں کی گاڑیاں اور میڈیا کی ٹیمیں نظر آنے لگیں۔ مقامی نوجوانوں کو بھی احساس ہوا کہ ان کے علاقے کی ریت، ٹیلے اور قدرتی ماحول محض مشکلات نہیں بلکہ ایک بڑی معاشی اور سیاحتی سرگرمی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
وقت کے ساتھ تھل جیپ ریلی کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا۔ اس میں اسٹاک، پری پیئرڈ اور خواتین کی کیٹیگریز متعارف ہوئیں۔ بعد کے برسوں میں ڈرٹ بائیک، کواڈ بائیک اور دیگر مقابلوں نے بھی اس ایونٹ کو مزید دلچسپ بنا دیا۔ خواتین ڈرائیوروں کی شرکت نے یہ پیغام دیا کہ موٹر اسپورٹس صرف مردوں تک محدود نہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے نامور ریسرز کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ڈرائیوروں کی شرکت نے بھی اس ایونٹ کی اہمیت میں اضافہ کیا۔ اب مقابلہ صرف گاڑی چلانے کا نہیں رہا تھا بلکہ اپنی مہارت، رفتار، حوصلے اور صحرا کے مشکل راستوں سے مقابلہ کرنے کا نام بن چکا تھا۔
اس تبدیلی کا ایک اہم پہلو مقامی معیشت پر اس کے اثرات ہیں۔ جب ہزاروں کی تعداد میں لوگ کسی علاقے کا رخ کرتے ہیں تو ان کے ساتھ کاروبار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ، کھانے پینے کے اسٹالز، مقامی دکانوں اور دیگر کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے۔ مقامی نوجوانوں کو مختلف انتظامی اور معاون سرگرمیوں میں کام کرنے کے مواقع ملتے ہیں۔ مقامی آبادی کے لیے یہ محض تماشائیوں کا ہجوم نہیں بلکہ روزگار اور آمدن کا ایک اضافی ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔ اگرچہ اس کے معاشی فوائد کا درست اندازہ لگانے کے لیے باقاعدہ اعدادوشمار ضروری ہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ بڑے ایونٹس کسی علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کو نئی زندگی دے سکتے ہیں۔
تھل جیپ ریلی نے صرف ریت کے ٹیلوں کو مشہور نہیں کیا بلکہ اس خطے کی ثقافت کو بھی نئی شناخت دی۔ تھل کی جھمر، سرائیکی لوک موسیقی، روایتی کھیل، اونٹوں کی ثقافت، نیزہ بازی اور مقامی دستکاریوں کو اس ایونٹ کے ذریعے قومی سطح پر متعارف کروانے کا موقع ملا۔ میلوں اور ثقافتی پروگراموں نے ریلی کو محض ایک کھیل کے مقابلے سے نکال کر ایک مکمل ثقافتی میلے میں تبدیل کر دیا۔ اب یہاں آنے والے لوگ صرف گاڑیوں کی ریس دیکھنے نہیں آتے بلکہ جنوبی پنجاب کی تہذیب، روایات، کھانوں، موسیقی اور مہمان نوازی سے بھی روشناس ہوتے ہیں۔ اس طرح تھل کی ثقافت کو نئی نسل اور دوسرے علاقوں تک پہنچانے کا ایک ذریعہ بھی میسر آیا۔
اس سارے سفر میں کوٹ ادو اور مظفرگڑھ کی اہمیت خصوصی طور پر نمایاں رہی ہے۔ کوٹ ادو کے چھانگا مانگا ٹیلا اور اس کے گردونواح کے صحرائی مقامات نے ریلی کے لیے ایک قدرتی میدان فراہم کیا، جبکہ مظفرگڑھ انتظامی سرگرمیوں، ثقافتی تقریبات اور اختتامی پروگراموں کا اہم مرکز بنتا رہا۔ بعد کے برسوں میں لیہ اور دیگر علاقوں کی شمولیت نے اس ایونٹ کو مزید وسیع کیا۔ یوں تھل جیپ ریلی ایک ضلع یا شہر کی سرگرمی نہیں رہی بلکہ جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع کو ایک مشترکہ شناخت دینے والا ایونٹ بن گئی۔
اب یہ سفر اپنے گیارہویں مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ 2026ء کی گیارہویں تھل ڈیزرٹ جیپ ریلی 5 سے 8 نومبر تک منعقد ہونے جا رہی ہے۔ ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پنجاب کے زیر اہتمام اس ایونٹ میں ملکی اور غیر ملکی ریسرز کی شرکت متوقع ہے۔ اس مرتبہ تقریباً 210 کلومیٹر طویل صحرائی ٹریک پر مختلف کیٹیگریز کے مقابلے منعقد ہوں گے۔ شیڈول کے مطابق 5 نومبر کو کوٹ ادو کے علاقے چھانگا مانگا ٹیلا میں گاڑیوں کی رجسٹریشن، تکنیکی جانچ اور طبی معائنے ہوں گے، جبکہ 6 نومبر کو کوالیفائنگ راؤنڈ منعقد کیا جائے گا۔ 7 نومبر کو اسٹاک کیٹیگری کے مقابلے ہوں گے اور 8 نومبر کو پری پیئرڈ، خواتین، ڈرٹ بائیک، کواڈ بائیک اور 6x6 کیٹیگریز کے مقابلے ہوں گے۔ اس دوران ثقافتی شوز، فیملی گالا، جھمر، میوزیکل نائٹس، نیزہ بازی اور روایتی کھیل بھی اس میلے کا حصہ ہوں گے۔
لیکن گیارہویں تھل جیپ ریلی کے موقع پر ایک اہم سوال بھی سامنے آتا ہے کہ کیا ہم نے اس خطے کی ترقی کے لیے صرف ایک سالانہ میلے پر اکتفا کر لیا ہے یا واقعی اس صحرا کی تقدیر بدلنے کے لیے کوئی مستقل منصوبہ بندی بھی کی ہے؟ کیونکہ کسی علاقے کی ترقی صرف چند روزہ تقریبات سے ممکن نہیں ہوتی۔ اس کے لیے سڑکوں کی تعمیر، صاف پانی کی فراہمی، صحت و تعلیم کی سہولیات، رابطہ سڑکوں، سیاحتی مقامات کی ترقی اور مقامی لوگوں کے لیے مستقل روزگار کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہیں۔ تھل کے صحرائی حسن کو محفوظ رکھتے ہوئے یہاں ماحول دوست سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ مقامی دستکاریوں، روایتی کھانوں اور ثقافتی ورثے کو مستقل کاروباری مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے اس سمت میں سنجیدہ اقدامات کریں تو تھل صرف جیپ ریلی کے چند دنوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورا سال سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ تھل جیپ ریلی کے انعقاد کے ساتھ حفاظت، ٹریفک مینجمنٹ، طبی امداد، ریسکیو انتظامات اور ماحولیاتی تحفظ کو بھی بنیادی اہمیت دینا ہوگی۔ ریت کے ان قدرتی ٹیلوں اور صحرائی ماحول کو محفوظ رکھنا ضروری ہے تاکہ آج کی تفریح آنے والی نسلوں کے لیے کسی ماحولیاتی نقصان کا سبب نہ بنے۔ مقامی آبادی کو اس ترقیاتی عمل میں شریک کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے، کیونکہ اس خطے کے اصل وارث یہاں کے لوگ ہیں۔
گیارہ سال پہلے جس صحرائی خطے کو دنیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کی ضرورت تھی، آج وہاں قومی سطح کا ایک بڑا موٹر اسپورٹس ایونٹ منعقد ہو رہا ہے۔ یہ تبدیلی کسی ایک دن، ایک فرد یا ایک ادارے کی مرہون منت نہیں بلکہ ایک ایسے اجتماعی سفر کا نتیجہ ہے جس میں مقامی لوگوں کی خواہش، سرکاری اداروں کی منصوبہ بندی، ضلعی انتظامیہ کی محنت اور ریسرز کے شوق نے اپنا کردار ادا کیا۔ تھل جیپ ریلی نے دنیا کو بتایا کہ جنوبی پنجاب کا صحرا صرف ریت کا سمندر نہیں بلکہ یہاں ثقافت بھی ہے، تاریخ بھی ہے، مہمان نوازی بھی ہے اور ترقی کے بے شمار امکانات بھی موجود ہیں۔
آج جب چھانگا مانگا ٹیلا کی ریت پر طاقتور گاڑیوں کے پہیے نشان چھوڑیں گے، جب انجنوں کی گرج صحرا کی خاموشی کو توڑے گی اور جب ہزاروں لوگ اس میلے کا حصہ بنیں گے تو یہ منظر صرف ایک جیپ ریلی کا نہیں ہوگا بلکہ ایک ایسے خطے کی نئی شناخت کا اظہار ہوگا جس نے اپنی محرومیوں کے باوجود آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کیا۔
واقعی، کبھی جس خطے کو دنیا صرف بیابان سمجھتی تھی، آج وہی خطہ اپنے اندر ایک میلہ سجائے بیٹھا ہے۔ یہ ہے جنگل میں منگل! یہ ہے تھل کی بدلتی ہوئی تقدیر، اور یہ ہے کوٹ ادو سے مظفرگڑھ تک پھیلے صحرائی خطے کی ایک نئی پہچان!
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







