ایران کے ساتھ جاری رابطوں اور امریکی حکمت عملی پر گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ واشنگٹن فوجی، اقتصادی اور سفارتی دباؤ کو بیک وقت استعمال کر رہا ہے، امریکا کی کوشش ہے کہ موجودہ صورتحال کو ایسے مرحلے تک پہنچایا جائے جہاں خطے میں مزید طویل جنگ سے بچا جاسکے اور اہم تجارتی راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
نائب امریکی صدر کے مطابق امریکی حکمت عملی کی اولین ترجیح آبنائے ہرمز کو بحری بارودی سرنگوں سے پاک کرنا اور تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ گزرگاہ بحال کرنا ہے، اس اہم سمندری راستے سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں پر دباؤ بڑھا ہے، جبکہ امریکا چاہتا ہے کہ تیل کی برآمدات دوبارہ سابقہ سطح پر بحال ہوں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی آئے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے معاملے پر سفارتی کوششیں جاری ہیں اور دیکھا جائے گا کہ مذاکرات کے ذریعے مزید پیشرفت ممکن ہے یا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران پر دوبارہ حملوں کے لیے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ سفارتی رابطوں کے نتائج کا انتظار کر رہی ہے۔
ایران میں فوجی مداخلت اور حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے امریکی نائب صدر نے زمینی افواج بھیجنے کے امکان کو مسترد کردیا، امریکا اب اس نوعیت کی جنگوں کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ انہوں نے اس مؤقف کو دہرایا کہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام کو مستقل طور پر بند دیکھنا چاہتا ہے، تاہم ایرانی حکومت کی تبدیلی کا فیصلہ ایرانی عوام کا اپنا حق ہونا چاہیے۔
جے ڈی وینس کے بیان میں ایک جانب ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی سے متعلق امریکی ترجیحات واضح کی گئیں، تو دوسری جانب طویل فوجی تصادم سے گریز اور سفارتی رابطوں کو جاری رکھنے پر بھی زور دیا گیا۔ ان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خطے میں ایسی جنگ کے مخالف ہیں جو طویل عرصے تک جاری رہے اور اس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں تک پھیل جائیں۔







