انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے منگل کے روز کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر پولیس کی جانب سے مقدمے کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا۔ سرکاری وکیل علی آزاد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کیس کا ریکارڈ موصول ہوگیا ہے۔

سماعت کے دوران جج نے فریقین سے دریافت کیا کہ آیا وہ مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں، تاہم بعد ازاں عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواستِ ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے دونوں کی ضمانت پانچ، پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی۔

سماعت کے دوران جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے پولیس کے خلاف جاری شوکاز نوٹس کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس معاملے کو بھی دیکھا جائے گا۔ عدالت کی جانب سے اس حوالے سے مزید کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف یہ مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا تھا۔ مقدمے کے مطابق نیشنل پریس کلب کے باہر ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران مبینہ طور پر سڑک بلاک کی گئی اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ جھگڑا ہوا۔ پولیس کی جانب سے درج مقدمے میں دونوں پر سڑک پر رکاوٹ ڈالنے اور سرکاری اہلکاروں کے ساتھ مبینہ تصادم کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ ایمان مزاری انسانی حقوق کی وکیل ہیں اور جبری گمشدگیوں سمیت مختلف انسانی حقوق کے معاملات کی پیروی کرتی رہی ہیں۔ ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ بھی اس مقدمے میں نامزد ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے تھانہ آبپارہ میں درج ایک دوسرے مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دس، دس سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس مقدمے میں ان پر سڑک سے سیکیورٹی بیریئرز ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

یوں ایک مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد دوسرے مقدمے میں دونوں کی ضمانت منظور ہوئی ہے۔ تاہم اس مقدمے میں ضمانت کا فیصلہ دوسرے مقدمے میں سنائی گئی سزا پر اثرانداز نہیں ہوتا، اور دونوں مقدمات کی قانونی کارروائی الگ الگ جاری رہے گی۔