ان کا کہنا تھا کہ حکمران اپنی مراعات کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں، حکومت نے کچھ ریلیف دینے کے اقدامات کیے، چار بنیادی نکات پر آج کی میٹنگ میں بات ہوئی، لیوی کا خاتمہ اور ریلیف پیکیجآج کے مذاکرات کا حصہ تھے ، ہم نے پبلک ٹرانسپورٹ اور 800 سی سی سے بڑی گاڑیوں کے لیے اور زرعی شعبے کے لیے بات کی، زرعی شعبے اور ایک ہزار سی سی گاڑیوں کو ریلیف پر حکومت نے اتفاق کیا ہے۔

 آئل ریفائنریوں کو اندھے منافع کے لیے موقع دیا ہوا ہے. آج حکومت اپنی ورکنگ مکمل کر لے گی، کل ہماری ٹیم اور حکومت پٹرولیم لیوی کے بتدریج خاتمے اور ریلیف کے لیے ورکنگ پیپر بنا لے گی، حکومتی ٹیم نے اعتراف کیا ہے کہ عوام کو ملنے والا ریلیف جماعت اسلامی کے احتجاج کی وجہ سے ہے ۔

 حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ حقائق پر مبنی ہے، مذاکرات اب حتمی سطح تک پہنچ چکے ہیں، معاہدے کے ڈرافٹ کا جائزہ لے کر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم  الرحمان حتمی اعلان کریں گے۔

حکومت کو پسپا ہونا ہوگا، حکومت کے پاس پیٹرولیم لیوی کی کوئی دلیل نہیں ہے، دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔