سیالکوٹ میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے ان کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کیا گیااور کہا کہ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ راولاکوٹ کے لوگ کشمیری نہیں ہیں، بلکہ وہ ہمیشہ کشمیر کے تمام عوام کے حقوق اور ان کے جائز مطالبات کی حمایت کرتے آئے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ مہاجرینِ جموں و کشمیر نے پاکستان کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، اس لیے ان کی نمائندگی کو کمزور کرنے یا مخصوص نشستوں کے خاتمے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، حکومت مہاجرین کے سیاسی، آئینی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی قانون سازی یا فیصلہ ان کے مفادات کے خلاف نہیں ہونے دیا جائے گا۔
خواجہ آصف نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں آج بھی بڑی تعداد میں لوگ پاکستان کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں اور ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے لگاتے ہیں، جو اس بات کا اظہار ہے کہ کشمیری عوام کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں، پاکستان ہر سطح پر کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور ان کے حقِ خودارادیت کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔
انہوں نے آزاد جموں و کشمیر کی ایکشن کمیٹی پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس تنظیم کے بیشتر مطالبات پہلے ہی تسلیم کر لیے تھے اور عوامی ریلیف کے لیے اربوں روپے کے مالی وسائل بھی فراہم کیے گئے، حکومت کی جانب سے تقریباً 24 سے 25 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے گئے تاکہ عوام کو سہولت فراہم کی جا سکے، تاہم اس کے باوجود بعض عناصر نے احتجاج اور کشیدگی کو ہوا دی۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایکشن کمیٹی کے چند افراد کے کردار پر بھی سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور انہیں بیرونی ذرائع سے مالی معاونت بھی حاصل ہو رہی ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں، ریاستی ادارے ایسے معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی اور ہمارے درمیان دراڑیں موجود ہیں، تاہم ابھی موجودہ سیٹ اپ کے جانے کی کوئی نشانیاں نہیں، خواجہ آصف
خواجہ آصف نے آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) عوام کی خدمت پر یقین رکھتی ہے اور آنے والے آزاد کشمیر کے انتخابات میں جماعت بھرپور کامیابی حاصل کرے گی، عوام کی حمایت کے ساتھ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں اپنی حکومت قائم کرے گی اور ترقیاتی منصوبوں سمیت عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح بنائے گی۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ حکومت قومی یکجہتی، کشمیر کاز اور مہاجرین کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرے گی جو کشمیری عوام یا مہاجرین کے مفادات کے خلاف ہو۔







