اپنے میڈیا پیغام میں وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ لاہور کے شہریوں نے حکومت کے اعتماد کی لاج رکھی۔ لاہور آج بہت خوش ہے اور میں بھی بہت خوش ہوں۔ الحمدللہ لاہور والوں نے قواعد و ضوابط پر عمل کرتے ہوئے محفوظ بسنت منانے میں اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ خوش و خرم مگر محفوظ بسنت کے تصور کو پوری طرح اپنایا گیا۔ کھانے کھائے گئے، پیچوں پر پیچ لڑائے گئے، ہوا کے جوش پر پتنگوں کی آنکھ مچولی ہوتی رہی،یہی اصل خوشی ہے۔

وزیرِاعلیٰ پنجاب نے کہا کہ مقررہ سائز اور مقررہ پنے کے علاوہ ممنوعہ ڈور کے استعمال کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ چھتوں پر ایس او پیز کے مطابق محفوظ بسنت منائی گئی، جب کہ لاہور بھر میں دھاتی تار استعمال نہ ہونے کے باعث ٹرانسفارمرز بھی محفوظ رہے۔

مریم نواز نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے چھتوں پر کیے گئے پیشگی حفاظتی اقدامات مؤثر ثابت ہوئے۔ سیف بسنت کا تصور لاہور کے بعد دیگر شہروں میں بھی اپنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ لبرٹی، اندرون شہر اور دیگر علاقوں میں 200 کلینک آن ویل اور 21 فیلڈ ہسپتال تعینات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

آخر میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ آج بسنت فیسٹیول کا آخری دن ہے، عوام احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔

دوسری جانب سماجی رابطے کی سائٹ ایکس سابقہ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے اعلان کیا کہ لاہور، پنجاب اور پورے پاکستان میں 25 سال بعد بسنت کی شاندار واپسی، جشن، اتحاد اور خوشیوں کے دلکش مناظر کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ بسنت کی تقریبات کا دورانیہ کل صبح 5:00 بجے تک بڑھا دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ توسیع اہلِ لاہور کے لیے ایک انعام ہے، جنہوں نے بسنت کو مثالی نظم و ضبط، ذمہ داری اور تمام حفاظتی ایس او پیز کی مکمل پابندی کے ساتھ منایا۔

مریم نواز نے شہریوں سے اپیل ہے کہ جشن محفوظ انداز میں جاری رکھیں، بجلی کی تاروں سے دُور رہیں، اپنی چھتوں کو محفوظ بنائیں اور جاری کردہ تمام ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ آئیے اس تاریخی بسنت کو سب کے لیے خوشگوار، محفوظ اور یادگار بنائیں۔