سرکاری خبررساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق وزیرِ داخلہ نے اس موقع پر حکومت کے اس مضبوط عزم کو دہرایا کہ ریاست مسلح افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور پورے علاقے میں تعلیمی اداروں کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
وانا پہنچنے پر وزیرِ داخلہ کا استقبال انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا (جنوب) میجر جنرل مہر عمر خان نے کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے پاکستان آرمی کے اُن افسران اور جوانوں سے ملاقات کی جنہوں نے بروقت اور جرات مندانہ کارروائی کرتے ہوئے حملے کو پسپا کیا اور تمام کیڈٹس اور اساتذہ کو بحفاظت نکالا۔
وزیرِ داخلہ نے طلباء اور فیکلٹی ممبران سے بھی گفتگو کی اور واقعے کے بعد ان کے بلند حوصلے اور ہمت کی تعریف کی۔ انہیں حملے کو ناکام بنانے کی تفصیلات، حفاظتی اقدامات اور تمام طلبا و اساتذہ کے محفوظ انخلاء کے عمل پر بریفنگ بھی دی گئی۔
اس موقع پر محسن نقوی نے پاکستان آرمی اور فرنٹیئر کور کی پیشہ ورانہ مہارت، بہادری اور فرضشناسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد انسانیت کے دشمن ہیں، یہ صرف دہشتگرد نہیں، درندے ہیں۔ کوئی مذہب بچوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔ انہیں انسان کہنا انسانیت کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کا ارادہ آرمی پبلک اسکول جیسا سانحہ دہرانے کا تھا، لیکن سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے ان کی پوری سازش ناکام بنا دی اور حملہ آوروں کو جہنم واصل کیا۔
مزید پڑھیں: وانا کیڈٹ کالج حملہ، تمام دہشت گرد افغان شہری نکلز
وزیرِ داخلہ نے آپریشن میں حصہ لینے والے تمام افسران اور جوانوں کو ’’قومی ہیرو‘‘ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ کیڈٹ کالج وانا کی جامع تزئین و آرائش اور بحالی کا کام جلد شروع کیا جائے گا۔
محسن نقوی نے حکومت کی جانب سے اس عزم کو ایک بار پھر واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی اور ملک بھر کے تعلیمی اداروں کی حفاظت اولین ترجیح رہے گی۔







