جمعرات کو سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے ریاست اور اداروں کے حوالے سے نامناسب بیانات دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے مولانا فضل الرحمان کا بہت احترام کرتے تھے، لیکن اب ان کے بیانات کے بعد احترام کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

محسن نقوی نے مزید کہا کہ بعض لوگوں کے لیے ریاست اس وقت تک ماں ہوتی ہے جب تک انہیں اس سے کچھ نہ کچھ ملتا رہے، لیکن جب انہیں حصہ ملنا بند ہو جائے تو وہ ریاست کے خلاف باتیں کرنے لگتے ہیں۔

وزیر داخلہ نے ایوان میں موجود پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر علی ظفر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہی لوگ جو آج ان کے ساتھ بیٹھ کر سیاست کر رہے ہیں، گورنر راج سے پہلے انہیں کہتے تھے کہ گورنر راج نافذ کریں اور ان کی پی ٹی آئی سے جان چھڑائیں۔

محسن نقوی کی تقریر کے دوران جمعیت علمائے اسلام کے ارکان کی جانب سے اعتراضات کیے گئے، جس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ’اب آپ کو ریاست سے نہ نوکری ملے گی، نہ پیسے ملیں گے اور نہ ہی ٹکٹیں‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی پر تنقید کی گئی ہے تو اسے سننے کی ہمت بھی ہونی چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان نے محسن نقوی کے دورہ ایران پر سوال اٹھایا تھا

یاد رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ دورہ ایران پر سوالات اٹھائے تھے۔ انہوں نے ریاستی اداروں کے حوالے سے بھی سخت زبان استعمال کی تھی۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’تہران میں دفاعی معاہدہ ہو رہا ہے اور ہمارے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع یہاں بیٹھے ہیں، اپنی عزت اور وقار کا خیال رکھیں، کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے‘۔

اس موقع پر انہوں نے محسن نقوی کی اجلاس میں شرکت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا تھا کہ کیا وہاں وزیر داخلہ کی بھی ضرورت تھی؟

محسن نقوی نے دورہ ایران کی وضاحت کر دی

وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کے حالیہ دورے سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ وہ کسی دفاعی معاہدے کے سلسلے میں ایران گئے تھے۔

مولانا فضل الرحمان کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ان پر یہ اعتراض بھی کیا گیا کہ اگر وزیر دفاع ایران نہیں گئے تو وہ کیوں گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو معلوم نہیں کہ یہ دورہ دفاعی امور سے متعلق نہیں تھا، بلکہ موجودہ حالات کا حل نکالنے کے سلسلے میں ایران گئے تھے۔

محسن نقوی نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایران جنگ سے متعلق بعض معاملات ان کے سپرد کیے ہیں۔ ان کے مطابق وہ کسی بھی جگہ اپنی مرضی یا شوق سے نہیں جاتے، بلکہ وزیراعظم کی ہدایت پر دورے کرتے ہیں۔

تہران اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے حکام کی شرکت

گزشتہ دنوں تہران میں ہونے والے اہم اجلاس میں ایران اور مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے تھے۔ اجلاس میں پاکستان کی جانب سے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم قالن نے شرکت کی تھی، جب کہ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔

اسی اجلاس میں محسن نقوی کی شرکت کو موضوع بناتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے سوالات کیے تھے، جس کے جواب میں وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ ان کا دورہ ایران دفاعی معاہدے سے متعلق نہیں تھا۔

خواجہ آصف کا بھی مولانا فضل الرحمان کو جواب

اس سے قبل قومی اسمبلی میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی مولانا فضل الرحمان کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ تہران میں پاکستان کے دفاع کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہو رہی تھی اور نہ ہی کوئی دفاعی معاہدہ زیر بحث تھا، اس لیے اجلاس میں ان کی شرکت ضروری نہیں تھی۔

خواجہ آصف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے سیاسی ماضی کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان تقریباً 10 سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس عرصے کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کشمیر کاز کے لیے کیا خدمات انجام دیں؟

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو دوسروں پر طعنے دینے کے بجائے اپنے کردار اور حاصل کی گئی مراعات کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔