نام بہت خوبصورت ہے۔ اب یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ چاند واقعی پورا ہے یا ابھی چودھویں رات کا انتظار ہے۔

سوال یہ اٹھا کہ جب پاکستان اور ترکی پہلے ہی مکہ معاہدے میں بندھے ہیں تو ایک اور بندھن کی کیا ضرورت تھی؟۔ جواب سادہ ہے۔ مکہ معاہدہ شادی ہے اور بدر منگنی کی انگوٹھی۔ مکہ میں ایک پر حملہ سب پر حملہ شمار ہوتا ہے، جبکہ بدر میں بس یہ طے ہوا ہے کہ مل کر ٹینک، جہاز اور پرزے کیسے بنائیں گے۔ ماہرین بھی یہی کہتے ہیں کہ ایک اجتماعی دفاع ہے اور دوسرا دفاعی صنعت کا تعاون۔ ایک میں جان دینے کا وعدہ ہے، دوسرے میں ٹیکنالوجی کا لین دین۔

انڈونیشیا نے تو باقاعدہ وضاحت کر دی ہے کہ یہ فوجی اتحاد نہیں بلکہ صنعتی شراکت ہے۔ یعنی دلہن والے پہلے ہی بتا دیتے ہیں کہ بارات نہیں آ رہی، صرف چائے پر ملنے آ رہے ہیں۔

ترکی کے پاس نیٹو کی دوسری بڑی فوج اور مضبوط دفاعی صنعت ہے۔ پاکستان کے پاس تجربہ، افرادی قوت اور ایٹمی ہتھیار ہیں۔ انڈونیشیا کے پاس آبادی اور بڑی منڈی ہے۔ اور قطر کے پاس؟ وہی جو بڑی محفلوں میں ہمیشہ کام آتا ہے، یعنی خزانہ۔ ایک تجزیہ کار نے بھی کہا کہ قطر کے پاس بڑا دفاعی صنعتی ڈھانچہ نہیں، تو وہ بنیادی طور پر مالی معاونت کرے گا۔

اب کسی منصوبے میں ایک فریق کارخانہ لائے، دوسرا ہنر، تیسرا مارکیٹ اور چوتھا چیک بک، تو بات بن سکتی ہے۔ شرط بس یہ ہے کہ چیک پاس بھی ہو اور کارخانہ بنے بھی۔ یہ دونوں کام ہمارے خطے میں ہمیشہ آسان نہیں رہے۔

مکہ معاہدے کا میزبان بدر کی تقریب میں نظر نہیں آیا۔ ریاض نے تاحال کوئی باضابطہ بیان بھی نہیں دیا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس میں ناراضی کی کوئی بات نہیں۔ ہو سکتا ہے سعودی عرب کو دو طرفہ معاہدے زیادہ پسند ہوں، یا اس کی نظر یمن جیسے معاملات پر ہو۔ ہمارے ہاں البتہ خاموشی کو بھی ایک بیان ہی سمجھا جاتا ہے، اور اس کی تشریح کا کام ہمیشہ ٹی وی اسٹوڈیوز کو سونپ دیا جاتا ہے۔

یہ سب اپنی جگہ، مگر اصل سوال وہی ہے جو ہر نئے معاہدے پر ذہن میں آتا ہے۔ اس کا فائدہ کس کو ہوگا اور کب؟

ایک تجزیہ کار نے یاد دلایا کہ چاروں ملکوں کے آپس کے تعلقات بھی ایک جیسے نہیں۔ انڈونیشیا اور پاکستان کے دفاعی رابطے محدود ہیں، اور قطر کے ساتھ بھی کبھی کبھار افغانستان کے معاملے پر پالیسی کا اختلاف رہا ہے۔ ابھی تو معاہدے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی، اور ہم پہلے ہی مشترکہ ٹینکوں اور بحری جہازوں کے خواب دیکھنے لگے ہیں۔

مفاہمتی یادداشتوں کی تاریخ یہ ہے کہ ان میں سے کچھ کارخانوں میں بدل جاتی ہیں، اور کچھ فائلوں میں۔ فائل والا انجام زیادہ عام ہے، اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس میں نقصان کوئی نہیں ہوتا۔

بدر کا چاند اچھا شگون ہے۔ بس دعا کیجیے کہ یہ چاند پورا ہونے کے بعد گھٹنا شروع نہ کر دے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر