قومی اسمبلی میں خواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ہونے والی لفظی جنگ بھی اسی سیاسی روایت کا ایک اور باب تھی۔ بظاہر معاملہ یہ تھا کہ ایران میں اہم ملاقاتوں کے دوران پاکستان کے وزیر دفاع وہاں موجود کیوں نہیں تھے۔ لیکن بات تہران سے شروع ہوئی اور کشمیر کمیٹی، مذہب، سیاست، اقتدار کی حصہ داری اور ماضی کے سیاسی سمجھوتوں تک جا پہنچی۔

مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ جب ایران میں خطے کے اہم معاملات پر سرگرمیاں جاری تھیں تو پاکستان کے وزیر دفاع ایوان میں کیوں موجود تھے، جبکہ وزیر داخلہ تہران میں بیٹھے تھے۔ ان کے اعتراض کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ ایسے موقع پر متعلقہ وزرا کی موجودگی اور پاکستان کی نمائندگی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

خواجہ محمد آصف نے جواب دیا کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا، نہ کوئی دفاعی اجلاس تھا اور نہ کسی ملک کا وزیر دفاع اس عمل میں شریک تھا۔ ان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی کوششوں کے سلسلے میں وہاں موجود تھے۔

یہ وضاحت اپنی جگہ۔ اگر واقعی وہاں دفاعی نوعیت کا کوئی اجلاس نہیں تھا تو وزیر دفاع کی عدم موجودگی پر اعتراض کی بنیاد کمزور پڑ سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ خطے میں امن کی کوششیں، سفارتی رابطے اور ممکنہ دفاعی اثرات ایک دوسرے سے بالکل الگ کیسے ہو سکتے ہیں؟ ہر سفارتی سرگرمی دفاعی اجلاس نہیں ہوتی، مگر ہر اہم سفارتی سرگرمی کا دفاعی اور سیاسی پہلو سے خالی ہونا بھی ضروری نہیں۔

بہرحال، پارلیمان میں اختلاف رائے کا یہی فائدہ ہے کہ حکومت سے سوال پوچھے جائیں اور جواب دیے جائیں۔ مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب سوال کا جواب دینے کے بجائے سوال پوچھنے والے کی پوری سیاسی زندگی کا پوسٹ مارٹم شروع کر دیا جائے۔

خواجہ محمد آصف نے بھی یہی راستہ اختیار کیا۔ انھوں نے مولانا فضل الرحمان پر مذہب اور سیاست کو مفادات کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ پھر طنزیہ انداز میں کہا کہ مولانا کے دفاع کے لیے اب کوئی مرد باقی نہیں رہا، اس لیے خواتین کو میدان میں آنا پڑا ہے۔

یہاں معاملہ تہران سے نکل کر ہماری سیاست کے اس پرانے میدان میں داخل ہو گیا جہاں دلیل سے زیادہ ذاتی حملے کام آتے ہیں۔ کسی سیاست دان کے مؤقف سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، اس کی سیاسی حکمت عملی پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے اور اس کے ماضی کا حساب بھی مانگا جا سکتا ہے۔

لیکن جب بحث اس مقام پر پہنچ جائے کہ اصل موضوع پیچھے رہ جائے اور سیاسی مخالف کی تضحیک مرکزی حیثیت اختیار کر لے تو پھر عوام کو یہ سمجھنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی کہ ایوان میں مسئلہ حل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے یا صرف ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی۔

کشمیر کمیٹی سے اقتدار کی حصہ داری تک

خواجہ آصف کا سب سے نمایاں حملہ کشمیر کمیٹی کی سابق سربراہی پر تھا۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ مولانا فضل الرحمٰن تقریباً دس برس تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے تو کشمیر کے لیے ان کی عملی خدمات کیا تھیں، سوائے مراعات حاصل کرنے کے۔

یہ سوال سیاسی طور پر اہم ہے، کیونکہ کشمیر جیسے حساس معاملے پر کسی بھی عہدے دار کی کارکردگی کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ لیکن اس جائزے کا معیار محض ایک تقریر یا ایک طنزیہ جملہ نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ کمیٹی کے پاس کیا اختیارات تھے، اس نے کیا کام کیا، اس کی سفارشات کیا تھیں اور ان پر کتنا عمل ہوا۔ اگر کوئی عہدہ دس برس تک کسی سیاست دان کے پاس رہا تو اس کی کارکردگی کا سوال بھی اتنا ہی سنجیدہ ہونا چاہیے جتنا اس عہدے سے حاصل ہونے والی مراعات کا ذکر۔

البتہ خواجہ آصف کی تقریر میں ایک اور بات بھی قابل غور تھی۔ انھوں نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا میں بعض لوگوں کو اقتدار میں حصہ دے دیا جاتا تو مولانا کی جانب سے اس نوعیت کی تنقید نہ سننی پڑتی۔ ان کے الفاظ کا خلاصہ یہ تھا کہ حصہ مل جائے تو خاموشی اور حصہ نہ ملے تو تنقید۔

یہ الزام درست ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ محض اسمبلی کے ایک خطاب سے نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن پاکستانی سیاست میں اقتدار کی حصہ داری اور اصولی مؤقف کے درمیان تعلق کا سوال نیا بھی نہیں۔ ہماری سیاسی تاریخ میں ایسی مثالیں کم نہیں جہاں کل تک ایک دوسرے کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے والے سیاست دان آج ایک ہی میز پر بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی اسے سیاسی مفاہمت کہا جاتا ہے، کبھی جمہوری ضرورت اور کبھی قومی مفاد۔

اصول بھی اپنی جگہ موجود رہتے ہیں، صرف ان کی تشریح حالات کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خواجہ آصف نے اپنی جماعت کی ماضی کی غلطیوں کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ اقتدار کے حصول کے لیے بعض سیاسی سمجھوتے نہیں کرنے چاہیے تھے۔ ان کے مطابق ایسے اتحادوں سے بہتر حزب اختلاف میں بیٹھنا تھا جن کے نتیجے میں حکومت کو مسلسل دباؤ اور بلیک میلنگ کا سامنا کرنا پڑے۔

یہ اعتراف اپنی جگہ اہم ہے۔ مگر اس کے ساتھ ایک سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر اقتدار کے لیے کیے گئے سمجھوتے غلط تھے تو ان کا اعتراف صرف مخالف جماعت کے خلاف تقریر میں کیوں؟ کیا سیاسی جماعتیں اپنی غلطیوں کا حساب بھی اسی وقت کرتی ہیں جب کوئی دوسرا ان پر انگلی اٹھائے؟

ہماری سیاست میں خود احتسابی اکثر مخالف پر حملے کے دوران ہی یاد آتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ اپنی غلطی کو مجبوری اور دوسرے کی غلطی کو مفاد کا نام دیا جاتا ہے۔

مذہب، معدنیات اور ریاستی فیصلے

مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی تقریر میں معدنی وسائل، دہشت گردی اور عالمی طاقتوں کے مفادات کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں جب وہ یہ خدشات ظاہر کرتے تھے کہ دہشت گردی کو خطے کے وسائل پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تو ان کے مؤقف پر تنقید کی جاتی تھی، لیکن اب معدنیات کے موضوع پر مختلف حلقوں میں کھل کر بات ہو رہی ہے۔

یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جسے محض سیاسی تقریر کی بنیاد پر درست یا غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عالمی طاقتوں کے معاشی اور تزویراتی مفادات اپنی جگہ ایک حقیقت ہیں، لیکن کسی خاص تنازع یا دہشت گردی کی کارروائی کو معدنی وسائل کے حصول سے جوڑنے کے لیے شواہد درکار ہوتے ہیں۔ خدشہ اور ثابت شدہ حقیقت ایک چیز نہیں، اور سیاسی دعویٰ اپنی جگہ تحقیق کا متبادل نہیں بن سکتا۔

مولانا نے افغانستان پر امریکی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو جواز بنا کر کارروائی کی گئی، جس کے اثرات افغانستان سمیت متعدد مسلم ممالک تک پہنچے۔ اس بحث میں بھی اصل سوال یہ ہے کہ ریاستی فیصلوں کے نتائج کس نے بھگتے، ان فیصلوں کے پیچھے کیا مقاصد تھے اور ان کے بارے میں عوام کو کتنی شفاف معلومات فراہم کی گئیں۔

لیکن جب یہ سوالات پارلیمان میں اٹھائے جائیں تو ان کا جواب بھی دلیل، شواہد اور پالیسی کی وضاحت سے دیا جانا چاہیے۔ سیاسی مخالف کی نیت پر حملہ کرنے سے نہ معدنی وسائل کے بارے میں سوال حل ہوتا ہے، نہ دہشت گردی کے اسباب سمجھ آتے ہیں اور نہ ہی خارجہ پالیسی کے فیصلوں کی وضاحت ہوتی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے گورنر راج کے معاملے پر بھی آئینی اعتراض اٹھایا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ متعلقہ دستاویز میں صدر مملکت کے اطمینان کا واضح ذکر موجود نہیں، اس لیے آئینی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ اس اعتراض کی صحت جانچنے کے لیے متعلقہ دستاویز، آئینی شق اور قانونی طریقہ کار کو دیکھنا ضروری ہے۔ محض کسی سیاست دان کے دعوے یا حکومتی وضاحت سے آئینی سوال کا حتمی فیصلہ نہیں ہو سکتا۔

یہی پارلیمان کا اصل کام بھی ہے: حکومت سے پوچھنا کہ اس نے فیصلہ کس بنیاد پر کیا، اپوزیشن سے پوچھنا کہ اس کے اعتراض کی بنیاد کیا ہے اور عوام کو یہ بتانا کہ آئین کی متعلقہ شق کیا تقاضا کرتی ہے۔

اصل مسئلہ کون سا ہے؟

اس پوری بحث میں ایک طرف خواجہ آصف ہیں جو مولانا فضل الرحمٰن پر مفادات کی سیاست کا الزام لگا رہے ہیں، اور دوسری طرف مولانا ہیں جو حکومت کے فیصلوں، معدنی وسائل، دہشت گردی اور آئینی تقاضوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ دونوں کے بیانات میں سیاسی الزامات بھی ہیں اور ایسے سوالات بھی جن کا جواب عوام کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔

لیکن ہماری سیاست کا المیہ یہ ہے کہ سنجیدہ سوالات بھی اکثر ذاتی لڑائی کے شور میں دب جاتے ہیں۔ کشمیر کمیٹی کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے، مگر اس کے لیے ریکارڈ سامنے آنا چاہیے۔ ایران میں ہونے والی سرگرمیوں کی نوعیت واضح ہونی چاہیے، مگر اس وضاحت کو ذاتی حملوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ معدنی وسائل اور دہشت گردی کے تعلق پر بات ہونی چاہیے، مگر دعووں کے ساتھ شواہد بھی پیش کیے جانے چاہییں۔ اور اگر کسی حکومتی فیصلے پر آئینی اعتراض ہے تو اس کا جواب بھی آئین ہی کی روشنی میں آنا چاہیے۔

عوام کو اس بات سے زیادہ فرق نہیں پڑنا چاہئے کہ اسمبلی میں کس نے کس کو خاموش کرا دیا یا کس کے ماضی کی کون سی فائل کھول دی گئی۔ ان کے لیے اصل سوال یہ ہونا چاہئے کہ ان بحثوں سے ملک کی پالیسی میں کیا بہتری آئی، حکومتی فیصلوں میں کتنی شفافیت پیدا ہوئی اور عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے کیا قدم اٹھایا گیا۔