دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار نے مکہ مکرمہ میں ہونے والے معاہدے پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات، مشترکہ اقدار اور امن و سلامتی کے لیے مشترکہ عزم کی عکاس ہے

نائب وزیراعظم کے مطابق 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں طے پانے والا معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان موجود اسٹریٹجک روابط کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ موجودہ دور میں خطے کو مختلف نوعیت کے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے دوست ممالک کے درمیان تعاون اور رابطوں کو مزید مؤثر بنانا ضروری ہے

انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کے درمیان تعاون کو مضبوط کرنا اور ممکنہ بیرونی جارحیت کے مقابلے میں اجتماعی دفاع کی صلاحیت بہتر بنانا ہے

نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ معاہدے کا مقصد کسی ملک کے خلاف محاذ آرائی یا کشیدگی پیدا کرنا نہیں بلکہ تینوں ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے

اسحاق ڈار نے معاہدے کی اہم شق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب یا ترکیہ میں سے کسی ایک ملک کے خلاف مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

ان کے مطابق یہ اصول اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 میں تسلیم کیے گئے انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق سے ہم آہنگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس شق کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور باہمی سکیورٹی کو مضبوط بنانا ہے تاکہ کسی بھی بیرونی خطرے کی صورت میں مشترکہ طور پر ردعمل دینے کی صلاحیت موجود ہو۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان تنازعات کے پرامن حل، ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی قوانین کے احترام پر یقین رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو تصادم یا محاذ آرائی کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ یہ تینوں ممالک کے درمیان یکجہتی، باہمی اعتماد اور مشترکہ دفاعی تعاون کا اظہار ہے۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور معاشی خوشحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور دوست ممالک کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے کی پالیسی پر کاربند رہے گا۔

نائب وزیراعظم نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دفتر خارجہ کے کردار کو بھی سراہا

انہوں نے کہا کہ قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے سیاسی و عسکری قیادت اور وزارت خارجہ کی کاوشیں قابل تحسین ہیں

اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو محض دفاعی شعبے تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ تینوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی، سفارتی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو بھی مزید آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے

مکہ مکرمہ میں ہونے والے اس معاہدے کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی رابطوں اور باہمی سکیورٹی تعاون کے ایک نئے مرحلے کا آغاز متوقع ہے، جبکہ معاہدے کی عملی شکل اور اس کے تحت تعاون کے طریقہ کار کو آئندہ مراحل میں مزید واضح کیا جائے گا۔