سرکاری ذرائع کے مطابق گفتگو کے آغاز میں دونوں رہنماؤں نے عیدالفطر کی مبارکباد کا تبادلہ کیا اور امت مسلمہ کے اتحاد، خوشحالی اور ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر ملائیشیا کی جانب سے پاکستان کی قیادت میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کی حمایت پر شکریہ ادا کیا،موجودہ حالات میں مسلم ممالک کا اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے ملائیشین ہم منصب کو آگاہ کیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے متحرک کردار ادا کر رہا ہے، اور اس سلسلے میں مختلف برادر خلیجی ممالک اور ایران کی قیادت سے مسلسل رابطے جاری ہیں۔ انہوں نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔
گفتگو کے دوران انور ابراہیم نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت اور سفارتی حکمت عملی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملائیشیا عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے پاکستان کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بھی دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے پر زور دے رہے ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ عالمی حالات میں سفارتکاری، مذاکرات اور باہمی تعاون ہی مسائل کا دیرپا حل ہیں۔ اس موقع پر پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان قریبی رابطے برقرار رکھنے اور مشترکہ حکمت عملی اپنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔
مزید پڑھیں: وزیر خارجہ کی ترک ہم منصب سے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر گفتگو
وزیراعظم شہباز شریف نے ملائیشیا کے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین دلایا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
واضع رہے کہ پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان اس نوعیت کے اعلیٰ سطحی روابط نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ عالمی اور علاقائی تنازعات کے حل میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔







