ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ رپورٹ کے مطابق مئی 2026ء میں ملک میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح بڑھ کر 11.66 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو جون 2024ء کے بعد 23 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حالیہ مہینوں میں قیمتوں میں استحکام کی کوششوں کے باوجود مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026ء میں مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ مئی 2025ء میں یہ شرح صرف 3.5 فیصد تھی، جس کے مقابلے میں ایک سال کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق اپریل کے مقابلے میں مئی کے دوران ماہانہ بنیاد پر بھی مہنگائی میں 0.52 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جولائی 2025ء سے مئی 2026ء تک اوسط مہنگائی کی شرح 6.69 فیصد رہی، تاہم حالیہ مہینوں میں قیمتوں میں تیزی سے اضافہ اس اوسط رجحان پر اثر انداز ہوا ہے۔

شہری اور دیہی علاقوں میں مہنگائی کے رجحان کے حوالے سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026ء میں شہری علاقوں میں ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں 0.68 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 0.30 فیصد رہی۔

سالانہ بنیاد پر صورتحال مزید تشویشناک دکھائی دیتی ہے، جہاں دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح 11.48 فیصد اور شہری علاقوں میں 11.79 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک بھر میں قیمتوں کا دباؤ تقریباً یکساں طور پر بڑھ رہا ہے۔

یاد رہے کہ  مہنگائی میں حالیہ اضافہ خوراک، توانائی اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا نتیجہ ہے، جس سے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

مزید پڑھیں: عید کے بعد اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، انڈیکس میں 1400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ

واضح رہے  کہ اگر مہنگائی پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے مہینوں میں عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام کے بغیر معاشی بہتری کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنا مشکل ہوں گے۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے قیمتوں کے استحکام کے دعوؤں کے باوجود زمینی حقائق میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے اور معیشت پر اس کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔