اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے مقابلے میں اپریل کے دوران حکومتی قرض میں تقریباً 4 ہزار ارب روپے کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو مالیاتی دباؤ میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 کے اختتام تک حکومتی قرضوں کے مجموعی حجم میں سالانہ بنیادوں پر 9.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ماہانہ بنیادوں پر یہ اضافہ تقریباً 2 فیصد رہا، رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں مجموعی طور پر قرضوں میں 5 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں اپریل کے اختتام تک حکومتی قرضوں کا حجم 74 ہزار 936 ارب روپے تھا، جس کے مقابلے میں موجودہ مالی سال میں قرضوں میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق اندرونی قرضوں میں اضافہ زیادہ نمایاں رہا ہے۔ اپریل 2026 تک حکومت کا اندرونی قرض، جو کمرشل بینکوں اور مالیاتی اداروں سے لیا گیا، بڑھ کر تقریباً 58 ہزار 100 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10.6 فیصد زیادہ ہے۔
ماہانہ بنیادوں پر اندرونی قرض میں ایک فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ جولائی سے اپریل کے دوران مجموعی طور پر اس میں 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: کشمیری عوام کے جمہوری حق کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، خواجہ آصف
دوسری جانب بیرونی قرضوں میں بھی اضافہ جاری رہا۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا اپریل کے دوران بیرونی قرض 2 فیصد اضافے کے ساتھ 23 ہزار 800 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں بیرونی قرض میں 6 فیصد اضافہ جبکہ مارچ 2026 کے مقابلے میں 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
واضح رہے کہ قرضوں میں مسلسل اضافہ ملک کے مالیاتی خسارے اور بڑھتے ہوئے اخراجات کی عکاسی کرتا ہے، جس پر قابو پانے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی اور ساختی اصلاحات ناگزیر قرار دی جا رہی ہیں۔







