رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق عدالت نے واضح کیا کہ ہائی کورٹس محفوظ شدہ فیصلے 90 دن کے اندر سنانے کی پابند ہیں، جب کہ مقررہ مدت کے بعد سنایا گیا فیصلہ اسی بنیاد پر کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے رولز باقاعدہ قانون کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی کے نتائج بھی بھگتنا ہوتے ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ بینچ کے ارکان کی جانب سے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر فیصلہ سنانے سے قبل اس کے نکات لیک کرنا قواعد کے خلاف ہے، جب کہ تمام ججز اور عدالتی عملہ ان رولز پر مکمل عملدرآمد کے پابند ہیں۔
فیصلے کے مطابق اگر کسی مقدمے میں فیصلہ لیک ہونے یا اس کے نکات قبل از وقت سامنے آنے کی شکایت ہو تو بینچ کا سربراہ ازسرنو سماعت کا حکم دے سکتا ہے، مقدمے کی دوبارہ سماعت وہی بینچ یا کوئی دوسرا بینچ بھی کر سکتا ہے۔
محفوظ شدہ فیصلہ مقررہ وقت( 3 ماہ میں) نہ سنانا قانون کی خلاف ورزی ہے جس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا,عدالتی فیصلہ سنائے جانے سے پہلے لیک یا پبلک ڈومین میں آ جانے پر بنچ سربراہ مقدمہ کسی دوسرے بنچ کے سامنے مقرر کرنے کیلئے چیف جسٹس کو بھجوا سکتا ہے، ، آئینی عدالت کا فیصلہ https://t.co/XmUzAg3u0V pic.twitter.com/2MsIHMfJky
— Hussain Ahmed Ch (@HussainAhmedCh8) May 4, 2026
عدالت نے ہدایت کی کہ ہائی کورٹس میں ایسے معاملات متعلقہ چیف جسٹس کو جب کہ سپریم کورٹ میں ججز کمیٹی کو بھجوائے جائیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ زیرالتواء مقدمات کے بوجھ کے باوجود بروقت انصاف کی فراہمی ناگزیر ہے۔ حالیہ عرصے میں فیصلے محفوظ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث فریقین کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ عموماً فیصلہ اس وقت محفوظ کیا جاتا ہے جب ججز کسی نتیجے پر متفق نہ ہوں یا معاملہ پیچیدہ قانونی نکات کا حامل ہو۔
موجودہ کیس میں سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے محفوظ شدہ فیصلہ دس ماہ بعد سنایا گیا جس پر عدالت نے سخت نوٹس لیا۔ وفاقی آئینی عدالت نے پاکستان شپنگ کارپوریشن کی اپیل نمٹاتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کی آبزرویشنز کو حذف کر دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ فیصلے پر عملدرآمد کے لیے اسے ملک بھر کی تمام ہائی کورٹس کو بھجوایا جائے۔ سات صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے تحریر کیا۔







