وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنے حصے کے پانی پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو پاکستان کے پانی پر ہاتھ ڈالے گا، اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا دنیا میں یہ اصول تسلیم کر لیا گیا ہے کہ بالائی علاقوں میں واقع ممالک زیریں علاقوں میں موجود ممالک کا پانی روک سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ حق کے لیے کھڑا ہونا ہماری قومی روایت ہے۔

مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ہمسایہ ملک سندھ طاس معاہدے سے انحراف کی کوشش کر رہا ہے اور انڈین وزیراعظم نریندر مودی پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی کرنا چاہتے ہیں۔

اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر متعدد مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ پانی پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے۔

عطا تارڑ نے مزید بتایا کہ پاکستان میں پانی کے مسئلے کی اہمیت پر ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے، جس میں دنیا بھر سے ماہرین شرکت کریں گے۔ ان کے مطابق کانفرنس کے دوران سندھ طاس معاہدے اور پاکستان کے آبی حقوق کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔