اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی معاشی حکمت عملی کا مرکز کرنٹ اکاؤنٹ کو متوازن رکھنا اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم بنانا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی سطح پر جاری کشیدگیاں، بالخصوص امریکا اور ایران کے درمیان تنازع، جلد ختم ہوگا جس سے عالمی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کو معیشت میں کلیدی شراکت دار کے طور پر دیکھتی ہے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے،پالیسی سازی میں شفافیت، مالیاتی نظم و ضبط اور اصلاحات کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ معیشت کو طویل المدتی بنیادوں پر مستحکم کیا جا سکے۔

 وزیر خزانہ  نے مزید کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ مالیاتی نظام میں بہتری لائی جا سکے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو۔ وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان توانائی کے متبادل ذرائع کی جانب بھی تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے، جس میں سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور منصوبے شامل ہیں، تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کیپیٹل مارکیٹ کا کردار معاشی ترقی میں نہایت اہم ہے۔ ان کے مطابق اسٹاک مارکیٹ اور مالیاتی منڈیوں کو مستحکم بنا کر سرمایہ کاری کے مواقع بڑھائے جا سکتے ہیں، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کو تقویت ملے گی۔

مزید پڑھیں: صومالی بحری لٹیروں کا مغوی پاکستانیوں کی رہائی کے لیے حکومت پاکستان سے براہِ راست مذاکرات کا مطالبہ

آخر میں وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت مشکل فیصلے کرنے سے گریز نہیں کرے گی اور معیشت کو درست سمت میں لے جانے کے لیے اصلاحاتی عمل جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آنے والے دنوں میں معاشی اشاریوں میں مزید بہتری آئے گی اور پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن رہے گا۔