نجی خبررساں ادارے ڈان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارتی رکاوٹوں اور شپنگ اخراجات میں غیرمعمولی اضافے کے باعث رواں سال پاکستان کی آم کی برآمدات میں کم از کم 30 فیصد کمی متوقع ہے۔
پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا آم برآمد کرنے والا ملک ہے اور معمول کے مطابق ہر سال آم کی برآمدات سے تقریباً 110 ملین ڈالر زرمبادلہ حاصل کرتا ہے۔ تاہم رواں سیزن میں صورتحال مختلف دکھائی دے رہی ہے۔
سندھ کے ضلع ٹنڈو اللہ یار میں سندھڑی آم کے باغات کی نگرانی کرنے والے محمد شکیل کا کہنا ہے کہ حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ بعض ٹھیکیدار اپنے پیشگی دیے گئے پیسے بھی چھوڑ کر باغات کے معاہدے ختم کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نقصانات اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ کئی ٹھیکیدار اپنی ایڈوانس رقم چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیف پیٹرن وحید احمد کے مطابق پاکستان کے تقریباً 80 فیصد آم خلیجی ممالک، ایران اور افغانستان کو برآمد کیے جاتے ہیں، لیکن حالیہ مہینوں میں ان تمام خطوں میں کسی نہ کسی شکل میں بحران یا تجارتی رکاوٹیں موجود رہی ہیں۔
ان کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال آم کی برآمدات تقریباً 30 ہزار ٹن کم ہو کر 80 ہزار ٹن رہنے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرحد بند ہے، ایران میں کشیدگی رہی اور پورا مشرقِ وسطیٰ عدم استحکام کا شکار رہا، جس کے براہِ راست اثرات ہماری برآمدات پر پڑے ہیں۔
اگرچہ حال ہی میں امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ابتدائی معاہدے کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے، تاہم تاجروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت آم کے موجودہ سیزن کے لیے بہت دیر سے ہوئی ہے اور فوری طور پر اس کے فوائد حاصل ہونے کا امکان نہیں۔
تاجروں کے مطابق آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی صورتحال اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث مال برداری کے اخراجات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔
وحید احمد کے مطابق گزشتہ سال 25 ٹن آم پر مشتمل ایک کنٹینر بیرونِ ملک بھیجنے پر تقریباً 1,400 ڈالر خرچ آتا تھا، جب کہ رواں سال یہی لاگت بڑھ کر 6,000 سے 7,000 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
برآمدات میں کمی کے باعث بڑی مقدار میں آم مقامی منڈیوں کا رخ کر رہے ہیں، جس سے قیمتیں نمایاں حد تک کم ہو گئی ہیں۔ کراچی کی منڈیوں میں اس وقت آم تقریباً 200 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً نصف قیمت ہے۔
اس سب کے باوجود کم قیمتوں کے باوجود عوام کی قوتِ خرید متاثر ہونے کے باعث مقامی طلب میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا۔
مزید پڑھیں: پیٹرول سستا، پنجاب میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں بھی کمی لائی جائے: مریم نواز
کراچی کے رہائشی محمد اشد کا کہنا ہے کہ آم پہلے کے مقابلے میں بہت سستے ہیں، لیکن لوگ پھر بھی خرید نہیں پا رہے کیونکہ دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں بہت بڑھ چکی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے بعد تین ماہ کے دوران پاکستان میں مہنگائی کی شرح 5.5 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے گھریلو بجٹ پر اضافی دباؤ ڈالا۔
محمد شکیل کا کہنا ہے کہ عوام اس وقت بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا، ’لوگ پہلے روٹی خریدیں یا آم؟ اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں جبکہ آمدنی میں اضافہ نہیں ہو رہا۔‘
ماہرین کے مطابق آم کی برآمدات میں کمی صرف زرعی شعبے ہی نہیں بلکہ پاکستان کی مجموعی معیشت کے لیے بھی ایک چیلنج بن سکتی ہے، جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں، مہنگائی اور علاقائی جغرافیائی سیاسی بحرانوں کے اثرات کا سامنا کر رہی ہے۔






