ذرائع کے مطابق اجلاس صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت ہوگا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، اہم وفاقی وزراء، اعلیٰ عسکری حکام اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی شرکت متوقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع اور اس کی تازہ پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک پر حالیہ حملوں کے اثرات اور خطے میں پیدا ہونے والی مجموعی صورتحال پر بھی غور کیا جائے گا۔

اجلاس میں پاکستان کے ممکنہ سفارتی کردار اور ثالثی کی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا، جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار شرکاء کو حالیہ چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس سے متعلق بریفنگ دیں گے۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور خطے میں امن پر زور

ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک کی داخلی صورتحال، بالخصوص پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اور ترسیل کے نظام کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاکہ کسی ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جا سکیں۔

اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی کفایت شعاری پالیسی اور اس پر عملدرآمد کی صورتحال بھی زیر غور آئے گی، جبکہ عوامی ریلیف کے لیے ممکنہ اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اجلاس میں موٹر سائیکل اور رکشا ڈرائیورز کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے سبسڈی دینے سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں، تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

حکومتی حلقوں کے مطابق یہ اجلاس ملکی سلامتی، معاشی استحکام اور خطے کی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس میں کیے جانے والے فیصلوں کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔