وزیراعظم سعودی عرب میں چند گھنٹے قیام کریں گے اور سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد وطن واپس روانہ ہو جائیں گے۔
جدہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رائل ٹرمینل پر مکہ ریجن کے ڈپٹی گورنر سعود بن مشعل بن عبد العزیز ، ریاض میں تعینات پاکستان کے سفیر احمد فاروق ، جدہ میں تعینات پاکستان کے قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی اور دیگر سفارتی عملے نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔
وزیر اعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان ملاقات میں خطے کی موجودہ صورتحال، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دو طرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت ہو گی۔
اس دورہ سے پاکستان کا سفارتی میدان میں مثبت کردار واضح ہو رہا ہے اور پاکستان یہ کردار ادا کرتا رہے گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسن اندرابی کے مطابق وزیراعظم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر چند گھنٹوں کے سرکاری دورے پر ریاض روانہ ہوئے ہیں۔ اس اہم دورے میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورے کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے خصوصی ملاقات کریں گے، جس میں خطے میں جاری کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والے ممکنہ اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
اس ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ تعلقات، معاشی تعاون اور سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات بھی زیر غور آئیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی مشاورت کا سلسلہ خطے میں بدلتی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کا یہ دورہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔ پاکستان مسلسل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کو کم کیا جائے اور مسائل کے حل کے لیے جنگ کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری کو ترجیح دی جائے۔
ان کے مطابق پاکستان خطے میں امن، جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر مثبت کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اسی مقصد کے تحت اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔







