عدالت نے مرزا شہزاد اکبر کو اشتہاری قرار دینے کا حکم دیتے ہوئے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے۔

عدالت نے کہا کہ مرزا شہزاد اکبر متعدد بار طلب کرنے کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

مرزا شہزاد اکبر کے خلاف مقدمے کا چالان بھی عدالت میں جمع کروایا جا چکا ہے۔ مرزا شہزاد اکبر کے خلاف ٹویٹر پر متنازع بیانات کی بنیاد پر مقدمہ درج ہے۔

واضح رہے کہ این سی سی آئی اے نے مرزا شہزاد اکبر کے خلاف جولائی 2025 میں مقدمہ درج کیا تھا۔

یاد رہے شہزاد اکبر پی ٹی آئی دور حکومت میں عمران خان کی وفاقی کابینہ میں مشیر رہے ہیں، سابق وزیراعظم نواز شریف، وزیر اعظم شہباز شریف سمیت دیگر اہم شخصیات کے مقدمات کے حوالے سے بڑے سرگرم رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:محسن نقوی کی برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات:  شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی فوری حوالگی پاکستان کے قانونی تقاضوں کے مطابق ضروری ہے

خیال رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کے باقاعدہ کاغذات برطانوی ہائی کمیشن کے حوالے کر دیے ہیں۔ اس حوالے سے وزیر داخلہ اور برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں پاک برطانیہ تعلقات اور سیکیورٹی تعاون پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

ملاقات کے دوران محسن نقوی نے واضح کیا کہ شہزاد اکبر اور عادل راجہ پاکستان میں مختلف الزامات کے تحت مطلوب ہیں اور ان کی فوری حوالگی پاکستان کے قانونی تقاضوں کے مطابق ضروری ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے برطانوی ہائی کمشنر کو دونوں افراد کے خلاف دستیاب ٹھوس شواہد بھی پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آزادی اظہارِ رائے پر مکمل یقین رکھتی ہے، تاہم فیک نیوز اور ریاستی اداروں کے خلاف منظم پروپیگنڈا کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

محسن نقوی نے کہا کہ بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان اور اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کسی بھی ملک میں ناقابلِ قبول عمل سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان مخالف مواد پھیلانے والوں کی حوالگی کے لیے برطانوی تعاون کا خیر مقدم کریں گے۔