سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ زیادہ تر مسنگ پرسنز کی فہرست میں شامل افراد ممنوعہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ارکان ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں ہلاک ہوتے ہیں تو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ ان کے نام پہلے سے مسنگ پرسنز کی فہرست میں شامل تھے اور ان کے اہل خانہ اب بھی اس بیانیے کے تحت الاؤنس وصول کرتے ہیں۔
وزیر دفاع نے الزام لگایا کہ دہشت گرد نیٹ ورکس اب خواتین اور بچوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، حالیہ حملوں میں خواتین کو دو مختلف مقامات پر استعمال کیا گیا، جوکہ ایک ظالمانہ اور منصوبہ بند اقدام ہے۔
دہشتگردوں کے رابطے بھارت سے ملتے ہیں، بھارت اور کالعدم بی ایل اے ایک ہی ہیں، ہلاک دہشتگرد مسنگ پرسنز کی فہرستوں میں نکلتے ہیں، بہت سے مسنگ پرسنز بیرون ملک مقیم ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف
— Alizay Khan (@AliizaayKhan) February 1, 2026
دہشت گرد شہری اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں، یہ ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں،… pic.twitter.com/04A6t44870
خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ یہ عناصر پاکستان کو اقتصادی اندھیروں میں واپس لے جانا چاہتے ہیں۔ گرفتار ملزمان کے اعترافات سے دہشت گرد سرگرمیوں میں غیر ملکی مداخلت کا انکشاف ہوا ہے۔
انہوں نے انڈیا پر الزام لگایا کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے اور بی ایل اے کو غیر ملکی فنڈنگ یافتہ دہشت گرد تنظیم قرار دیا جس کے اثرات پاکستان سے باہر بھی موجود ہیں۔
وزیر دفاع نے حالیہ حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کے سریاب روڈ، ڈالبندین میں ایف سی ہیڈکوارٹرز اور نوشکی سمیت کل بارہ مقامات پر حملے کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے کئی لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے، جب کہ سیکیورٹی فورسز متاثرہ علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سکیورٹی فورسز نے 40 گھنٹوں کے دوران 145 دہشتگرد ہلاک کیے، وزیراعلیٰ بلوچستان
خواجہ آصف نے انڈیا اور افغانستان سے اپیل کی کہ وہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے پراکسی گروپس کا استعمال بند کریں، پاکستان طویل عرصے سے اس جنگ میں مصروف ہے اور اسے آخر تک لڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنے کے عزم پر قائم ہیں، بہت سے مسنگ پرسنز دبئی اور مسقط جیسے شہروں میں آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں۔
مسنگ پرسنز کے نام سے ایک جھوٹا بیانیہ بنایا جاتا ہے جب سیکورٹی فورسز کا آپریشن ہوتا ہے اس میں مارے گئے دہشت گردوں کا نام مسنگ پرسنز میں بھی ہوتا ہے اب ان بزدل دہشت گردوں نے معصوم بچوں عورتوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا ہے انشااللہ اس ناسور کو مکمل ختم کیا جائے گا وزیر دفاع… pic.twitter.com/nesEpcwj5P
— محفوظ الرحمن اعوان (@mahfooz51871) February 1, 2026
وزیرِدفاع نے کراچی کی ایک حالیہ مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک نوجوان خاتون خودکش بمبار گرفتار ہوئی جس نے اعتراف کیا کہ اسے حملے کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا گیا تھا۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں کی دہشت گردی پر خاموشی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایسے اقدامات کی مذمت نہ کرنا انتہا پسند قوتوں کی مدد کے مترادف ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کی حالیہ حملوں کی مذمت کو سراہا اور زور دیا کہ دہشت گردی ہر صوبے کو برابر متاثر کر رہی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی صوبوں کا انتخاب نہیں کرتی، ہمارے بچے، ہماری بیٹیاں، ہر خطے سے اپنی جان قربان کر رہے ہیں۔
آخر میں وزیر دفاع نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ملکی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیں اور ملک کی حفاظت کے لیے متحد ہوں، کیونکہ اتحاد ہی دہشت گردی کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار ہے۔







