عرب میڈیا کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات پر ممکنہ میزائل حملوں سے متعلق افواہوں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کے بعد حکام نے جعلی اور گمراہ کن خبریں پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی شروع کی۔
رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر ریاست کے بارے میں منفی یا غلط معلومات پھیلانے کے الزام میں ہزاروں غیرملکی شہریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا، جن میں پاکستانی، انڈین اور دیگر ممالک کے شہری بھی شامل ہیں۔
متحدہ عرب امارات میں ایران امریکا کشیدگی کے دوران وہاں کے سوشل میڈیا قوانین کی خلاف ورزی پر ساڑھے 3 ہزار پاکستانیوں کو واپس وطن بھیجا گیا، ان کی جائیداد ورثا کے حوالے کی جا رہی ہیں، اگر کسی کو اس میں کوئی دشواری ہے تو وزارت خارجہ معاونت کرے گی
— ترکیہ اردو (@TurkiyeUrdu_) June 11, 2026
وزارت خارجہ کا قومی اسمبلی میں… pic.twitter.com/X3d6nBeeB2
متحدہ عرب امارات میں حساس سیکیورٹی صورتحال کے دوران غلط اور منفی خبریں پھیلانے کو معاشرے میں خوف اور بے چینی پیدا کرنے کا سبب قرار دیا گیا، جس کے بعد سوشل میڈیا قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا۔
قومی اسمبلی میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق 3500 پاکستانی شہریوں کو مختلف خلاف ورزیوں، بالخصوص سوشل میڈیا قوانین کی خلاف ورزی، کے باعث ملک بدر کیا گیا۔
قومی اسمبلی کو یہ بھی بتایا گیا کہ بے دخل کیے جانے والے بعض پاکستانیوں کی جائیداد اور اثاثے ان کے ورثا کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔ اگر کسی فرد کو اس حوالے سے کسی قسم کی دشواری کا سامنا ہو تو وہ متعلقہ حکام سے رابطہ کر سکتا ہے، جب کہ وزارتِ خارجہ بھی ضروری معاونت فراہم کرے گی۔







