میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرینِ امراضِ چشم پر مشتمل ٹیم نے تقریباً ایک گھنٹے تک سابق وزیرِ اعظم کا طبی معائنہ کیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جاری علاج کے باعث آنکھ کی بینائی میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں اور مکمل صحت یابی کا امکان بھی موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سے قبل پانچ رکنی میڈیکل پینل نے بھی عمران خان کا تفصیلی معائنہ کیا تھا، جو تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہا۔ ٹیم میں ڈاکٹر رفعت، ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹر عارف سمیت دیگر ماہرین شامل تھے۔ طبی ماہرین جدید آلات اور ادویات کے ہمراہ جیل پہنچے، جبکہ آنکھوں کے معائنے کے آلات سے لیس ایمبولینس بھی جیل کے اندر موجود تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے پی ٹی آئی قیادت کے نمائندوں کا تقریباً ڈھائی گھنٹے انتظار کیا، تاہم معائنے کے دوران کوئی سیاسی رہنما موجود نہیں تھا۔ بعد ازاں ماہرین نے اپنی ابتدائی رپورٹ مرتب کرکے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کر دی ہے، جبکہ مکمل تفصیلی رپورٹ جلد حکومت کو پیش کی جائے گی۔
عمران خان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایک طبی عارضے کے باعث وہ اپنی دائیں آنکھ کی 85 فیصد بینائی کھو چکے ہیں۔ انہیں ڈاکٹروں تک رسائی سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایات کے بعد دی گئی۔
ان کے وکیل سلمان صفدر نے حالیہ ملاقات کے بعد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قائم بینچ میں رپورٹ جمع کرائی تھی، جس میں مؤکل کی صحت سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے ہوئے مناسب طبی سہولیات کی فراہمی کی استدعا کی گئی تھی۔
دوسری جانب حکومتِ پاکستان نے عمران خان اور دیگر قیدیوں کی صحت سے متعلق پی ٹی آئی کے احتجاجی بیانات پر وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق عمران خان سمیت تمام قیدیوں کو قانون کے مطابق طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور جیل حکام نے بروقت اور مؤثر اقدامات کیے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ پمز اور الشفا انٹرنیشنل کے ماہرین نے جیل میں مکمل طبی معائنہ کیا اور علاج کے عمل کو اطمینان بخش قرار دیا۔ 15 فیصد بینائی سے متعلق افواہوں کو غیر ضروری اور بے بنیاد قرار دیا گیا ہے، جبکہ جاری علاج کو بحالی کے عمل کا حصہ بتایا گیا ہے۔
حکام کے مطابق پارٹی قیادت اور ذاتی معالجین کو تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک بریفنگ دی گئی، جس میں طبی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ تاہم حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ دعوت کے باوجود پارٹی قیادت چیک اپ کے موقع پر موجود نہیں تھی۔
حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاجی اقدامات سے ٹریفک اور روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے، جس سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت نے پارٹی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ اسٹریٹ ایجی ٹیشن کے بجائے خیبر پختونخوا میں گورننس اور عوامی خدمات کی فراہمی پر توجہ دے۔
ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر عمران خان کی صحت میں بہتری کے آثار دیکھے گئے ہیں اور مستقل نقصان سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کیا جا رہا ہے۔ طبی ماہرین کی حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو جائے گی، جس پر سیاسی و عوامی حلقوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔







