تفصیلات کے مطابق ترجمان لاہور پولیس کے مطابق متوفیہ کے والد کا انگوٹھا کسی قسم کا ریلیف دینے یا حق سے دستبرداری کے لیے نہیں لگوایا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈیڈ ہاؤس میں والد کا انگوٹھا صرف درخواستِ مقدمہ میں موجود ایک تکنیکی غلطی کی تصحیح کے لیے لیا گیا۔ ابتدائی درخواست میں سیفٹی آفیسر کا نام محمد دانیال درج تھا، تاہم گرفتاری کے بعد معلوم ہوا کہ سیفٹی آفیسر کا اصل نام محمد حنزلہ ہے۔
درخواستِ مقدمہ میں درست نام شامل کرنے کے لیے متوفیہ کے والد سے انگوٹھا لگوا کر نئی درخواست جمع کروائی گئی، جس کی بنیاد پر مقدمہ درست کوائف کے ساتھ دوبارہ درج کر لیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق انگوٹھا لگواتے وقت متوفیہ کا پورا خاندان ڈیڈ ہاؤس میں لاش کے ہمراہ موجود تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: مین ہول میں گرنے والی خاتون کے بعد بچی کی لاش بھی مل گئی، منصوبے سے وابستہ پوری ٹیم معطل
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ انوسٹی گیشن ونگ کی درخواست پر یہ تصحیح کی گئی اور وقت کی قلت کے باعث ڈیڈ ہاؤس سے روانگی سے قبل ہی انگوٹھا لگوا کر قانونی کارروائی مکمل کی گئی۔ ڈی ایس پی انوسٹی گیشن اس معاملے پر تفصیلی وضاحت پہلے ہی دے چکے ہیں۔
لاہور پولیس کے مطابق وہ دکھی خاندان کے غم میں برابر کی شریک ہے اور واقعے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ واقعے پر ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ اعلیٰ سطحی انکوائری جاری ہے۔







