خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک کلپ کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس پر جس انداز میں توجہ مرکوز کی جا رہی ہے، اس کے نتیجے میں نئے حقائق اور شواہد سامنے آ رہے ہیں۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ معاملے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ میر رضا کیس میں اصل حقائق کیا تھے اور تحقیقات کے دوران کسی مرحلے پر غفلت یا مبینہ طور پر معاملے کو دبانے کی کوشش تو نہیں کی گئی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کیس کی تحقیقات کے دوران کسی قسم کی مفاہمت یا سمجھوتے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، ماضی میں اگر کسی معاملے میں ’’مک مکا‘‘ ہوا تھا تو اس بار بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ تحقیقات کسی دباؤ یا اثرانداز ہونے کی کوشش سے متاثر نہ ہوں۔

خواجہ آصف نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان افراد کا کردار بھی سامنے لایا جائے جنہوں نے مبینہ طور پر معاملے کی اصل صورت حال چھپانے یا حقائق کو دبانے کی کوشش کی، صرف واقعے کی تحقیقات کافی نہیں بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ ماضی میں تحقیقات کا رخ کیوں تبدیل ہوا اور متضاد رپورٹس کیسے سامنے آئیں۔

دوسری جانب سندھ حکومت نے میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ ضیا لنجار کے مطابق حکومت کی خواہش ہے کہ میر رضا کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے اور معاملے کے تمام پہلوؤں کا شفاف انداز میں جائزہ لیا جائے۔

ضیا لنجار نے بتایا کہ کیس کے حوالے سے ایک نئی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جس کا مقصد معاملے سے متعلق دستیاب معلومات اور رپورٹس کا جائزہ لینا ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ کے مطابق کیس میں سامنے آنے والی متضاد رپورٹس کے حتمی تعین کا معاملہ کمیشن یا عدالت پر چھوڑا جائے گا، تحقیقات کے ذریعے حقائق کو واضح کیا جائے گا تاکہ کسی بھی فریق کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

میر رضا کیس کے حوالے سے سامنے آنے والے مختلف مؤقف اور رپورٹس کے بعد اب سندھ حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے قیام کو معاملے کی آزادانہ تحقیقات کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ وفاقی وزیر دفاع کے بیانات نے بھی کیس کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کی بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

اب جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات میں یہ بات اہم ہوگی کہ واقعے کے اصل محرکات کیا تھے، مختلف اداروں کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹس میں تضاد کیوں پیدا ہوا اور کیا کسی مرحلے پر حقائق کو چھپانے یا تحقیقات کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔