ان کا بلوچستان اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بسوں سے اتار کر معصوم لوگوں کا قتل کرنے والوں سےکیسے مذاکرت ہوسکتے ہیں؟
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نےکہا کہ بلوچستان ایک روشن مستقبل کی جانب پرواز کرچکا ہے اور دشمن قوتیں اس سے پریشان ہیں۔
بعض بیرونی عناصر بھی دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور اگر ان کی سرپرستی ختم ہوجائے تو یہ تنظیمیں بہت جلد ماضی کا حصہ بن جائیں گی، جب تک وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے مذاکرت نہیں ہوں گے۔
ڈائیلاگ اس شرط پر نہیں ہوسکتےکہ ریاست پاکستان کو توڑنا ہے، آئین کے مطابق مذاکرات کرنے والوں کے لیے دروازے کھلے ہیں۔
بلوچ قوم کو ایک لاحاصل جنگ میں ڈالاگیا، جن بچوں کا برین واش کرکے پہاڑوں پر لے جایا گیا انہیں واپس لانا ہے۔
میر سرفراز بگٹی نےکہا دنیا میں جہاں بھی کامیاب مذاکرات ہوئے وہ سیاسی جماعتوں اور آئین و قانون کو تسلیم کرنے والی قوتوں کے ساتھ ہوئے۔
اگر کوئی سیاسی قوت آئین پاکستان اور قانون کو تسلیم کرتی ہے تو حکومت اس سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، موجودہ حکومت نے پہلی مرتبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ سمجھ کر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
انہوں نے اس عہد کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔







