میڈیا سے گفتگو میں مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کچھ لوگوں نے نعرے لگائے، عوام کی تکلیف سمجھتا ہوں۔ آگ پر مکمل کنٹرول اور کولنگ کے عمل کے مکمل ہونے میں کتنا وقت لگے گا، اس بارے میں کوئی حتمی وقت نہیں دے سکتا۔ تاجروں نے بتایا کہ ایک مخصوص راستے سے فائر فائٹرز اندر جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاپتا افراد کو تلاش اور بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔ شہریوں کے مطابق عمارت کے پچھلے حصے سے بھی آپریشن کیا جا رہا ہے۔ 24 گھنٹے سے فائر فائٹرز آگ بجھانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

میئر کراچی نے بتایا کہ تقریباً 65 افراد لاپتا ہیں، جب کہ شدید رش کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ایک فائر فائٹر دورانِ ڈیوٹی شہید ہوا ہے۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ عوام جذباتی ہیں اور ان کا دکھ بجا ہے، ’مجھ پر تنقید کریں، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔

انہوں نے کہا کہ فائر بریگیڈ پہلے ہی دن سے کام کر رہی ہے، کال 10 بجکر 27 منٹ پر موصول ہوئی اور 15 منٹ میں فائر بریگیڈ موقع پر پہنچ گئی، اس لیے فائر بریگیڈ کے تاخیر سے پہنچنے کا تاثر درست نہیں۔

گل پلازہ کے دورے کے بعد میئر کراچی قریبی ڈی سی آفس پہنچے، جہاں شہریوں نے دوبارہ احتجاج کیا۔