اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی حکومت کی توجہ تعمیر اور ترقی پر نہیں تھی بلکہ خود پر تھی۔ نواز شریف، شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرے حلقے کے لیے 38 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے اور مجھے لگتا ہے کہ اس سال کے آخر تک پورے پنجاب کی سڑکیں مکمل ہو جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ نیت ٹھیک ہو اور آپ کوشش کریں تو اللہ تعالیٰ راستے بناتا ہے۔ پاکستان کی تقدیر 2022 سے بدلنا شروع ہوئی۔ 2022 میں پی ڈی ایم کی حکومت میں کوئی نہیں آنا چاہتا تھا، بہت مشکل حالات تھے، مہنگائی تھی، مشکلات تھیں، لیکن ہماری جماعت نے مشکل فیصلہ لیا اور وہیں سے نئی ٹیم کی بنیاد رکھی گئی اور ملک کو قدموں پر کھڑا کرنا شروع کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہی وقت تھا جب نئے سپہ سالار آئے۔ ہم کہتے ہیں کہ نئے سپہ سالار کا تقرر نواز شریف کا بہترین فیصلہ تھا۔ نئی حکومت میں وزیراعظم کے لیے پہلے سے زیادہ چیلنجز تھے۔

ایاز صادق نے کہا کہ مودی سمجھتے تھے کہ شہباز شریف پچھلے وزیراعظم کی طرح کہیں گے کہ کیا ہندوستان پر حملہ کر دوں؟ پاکستان کی مرکزی قیادت نے بیٹھ کر ایک ہی فیصلہ کیا کہ پاکستان کی عزت بحال کرنی ہے۔ وزیراعظم نے اس وقت دنیا کے تمام ممالک سے رابطہ کر کے کہا کہ آؤ ٹیم بنا کر انکوائری کروا لو۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح دی۔

انہوں نے کہا کہ میری جن لوگوں سے ملاقات ہوئی، سب بہت خوش ہیں۔ ہم روس، چین، امریکا اور ایران سے دوستی رکھتے ہیں، جبکہ بھارت سے ہماری دوستی نہیں ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے پاکستان کی کوششوں کو نمایاں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار گر گئے، فریکچر ہوا، مگر اگلے دن چین چلے گئے۔ امریکا اور ایران کی جنگ میں پاکستان پہلا ملک تھا جس نے جنگ کی مخالفت کی۔

انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے تھے پاکستان کے پاس پیسے نہیں، لیکن پاکستان نے دس گنا طاقت کو شکست دی۔ ہمارے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے اہم کردار ادا کیا، ڈی جی آئی ایس آئی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعی معجزے ہوئے ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں یہ تیسری عالمی جنگ روکنے کے مترادف ہے۔ میں ترکی گیا، وہاں دیگر ممالک کے سربراہان مجھے روک کر کہتے تھے کہ آپ جو کام کر رہے ہیں ہم اس کے لیے دعاگو ہیں۔

ایاز صادق نے کہا کہ دنیا کا ہر ملک مہنگائی سے متاثر ہوا ہے۔ 12 تاریخ کو مجھے بتایا گیا کہ مسودہ معاہدہ بن رہا ہے، لیکن نہیں ہو سکا اور دونوں وفود چلے گئے۔ ہمیشہ خدشہ تھا کہ ایران اور امریکا کے جہاز پر کوئی شرارت ہو گئی تو سب تباہ ہو جائے گا۔ اگر اسلام آباد سے 20 میل دور بھی بم پھٹتا تو لوگ واپس چلے جاتے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سب کی نیت بہترین ہے۔ 47 سال میں یہ لوگ کسی ایک ملک یا شہر میں اکٹھے نہیں ہوئے، لیکن پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے عزت دی ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اجلاس میں گرما گرمی ہوتی تھی تو وفود چلے جاتے تھے۔ چھ مرتبہ ایسا ہوا کہ اجلاس میں گرما گرمی ہوئی، پھر فیلڈ مارشل اور اسحاق ڈار صاحب انہیں دوبارہ بٹھا لیتے تھے۔

مخالف جماعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں سوچتا ہوں جب وہ کہتے تھے کہ میں بیٹھا ہوا تھا، کیا میں ہندوستان پر حملہ کر دوں؟ اب کہاں سے یہ سب آ گیا؟

انہوں نے کہا کہ ہماری بھی لڑائی ہوئی لیکن کبھی نقصان نہیں پہنچایا۔ مسلم لیگ (ن) نے کبھی افواج پاکستان کی کسی گاڑی کو نقصان نہیں پہنچایا۔ ہم کہتے ہیں پاکستان کی بات کرو، وہ کہتے ہیں لیڈر کی آنکھ کا آپریشن کروا دو، حالانکہ جتنی آسائشیں انہیں مل رہی ہیں آج تک کسی کو نہیں ملیں۔

ایاز صادق نے کہا کہ ہم ہمیشہ پاکستان کی بات کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے خوش ہوتا ہے تو چیزیں جوڑنا شروع کر دیتا ہے۔ آج دنیا میں سینہ چوڑا کر کے کہتے ہیں کہ ہم پاکستان سے ہیں۔ کس کو کیا پتا تھا کہ شہباز شریف، فیلڈ مارشل، ایئر چیف، بحریہ چیف اور اسحاق ڈار اتنا بہترین کام کریں گے۔