صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے حکومتی کمیٹی برائے کشمیر امور نے اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور آزاد کشمیر کے سینئر رہنما شریک تھے۔ ملاقات میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال اور اِن ہاؤس تبدیلی کے امکانات پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر حکومت کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے اور اپوزیشن میں بیٹھ کر پیپلز پارٹی کی تحریکِ عدم اعتماد کی حمایت کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ آزاد کشمیر حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، اس لیے دونوں جماعتوں نے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے صورتِ حال کا جائزہ لیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ تبدیلی اب ناگزیر ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ موجودہ حکومت مسائل حل کرنے کے بجائے نئے مسائل پیدا کر رہی ہے، دو بار ایسے بحران آئے جنہیں وفاقی حکومت کو مداخلت کر کے حل کرنا پڑا۔ اب فیصلہ ہو چکا ہے کہ تحریکِ عدم اعتماد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) مل کر لائیں گی۔

قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے عوام بہتر طرزِ حکمرانی، سیاسی استحکام اور شفاف انتخابات کے مستحق ہیں تاکہ وہ اپنے حقیقی نمائندوں کو منتخب کر سکیں۔ تحریکِ عدم اعتماد کے وقت کا فیصلہ وزیرِ اعظم سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوامی توقعات پر پوری نہیں اتری، جس سے سیاسی خلا اور غیر یقینی کی فضا پیدا ہوئی۔

واضح رہے کہ 25 اکتوبر کو پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ فیصلہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا، جس میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آزاد کشمیر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے آزاد کشمیر میں ان ہاؤس تبدیلی کی منظوری دے دی ہے، جب کہ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے وزیرِ اعظم کے نام کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔