اتوار کو بھیجے گئے مشترکہ خط میں سابق کپتانوں نے حکومت پاکستان سے تین اہم مطالبات کیے ہیں، جن میں آزادانہ طبی معائنہ، اہل خانہ سے ہفتہ وار ملاقاتوں کی بحالی اور طبی ماہرین کی تجویز کردہ علاج کی فوری فراہمی شامل ہے۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق عمران خان کے ذاتی معالجین پر مشتمل میڈیکل بورڈ کو ان کا مکمل اور غیر جانب دارانہ طبی معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے۔

سابق کپتانوں نے بالخصوص عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں کمی سے متعلق اطلاعات کا فوری اور تفصیلی طبی جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے بحال کی گئی عمران خان کی ہفتہ وار اہل خانہ سے ملاقاتوں کا سلسلہ کسی انتظامی تاخیر یا رکاوٹ کے بغیر باقاعدگی سے جاری رکھا جائے۔

سابق کرکٹرز نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ طبی معائنے کے بعد میڈیکل بورڈ کی جانب سے تجویز کردہ کسی بھی علاج کو بغیر تاخیر کے فراہم کیا جائے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ 73 سالہ عمران خان تین سال سے زائد عرصے سے حراست میں ہیں اور ان کے مقدمات سے متعلق سیاسی یا قانونی مؤقف سے قطع نظر، عدالت کے حکم کے مطابق طبی کارروائی کی مکمل اور درست فراہمی ایک بنیادی انسانی تقاضا ہے۔

سابق کپتانوں کا کہنا ہے کہ کرکٹ کے میدان میں قائم ہونے والا رشتہ سیاسی سرحدوں سے بالاتر ہے اور اس معاملے کا باوقار اور جلد حل دنیا بھر کے کرکٹ کھیلنے والے ممالک میں منصفانہ اقدام کے طور پر دیکھا جائے گا۔

خط میں چھ ماہ قبل 14 سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں کی جانب سے بھیجے گئے خط کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس میں عمران خان کے ساتھ انسانی ہمدردی پر مبنی سلوک اور مناسب طبی دیکھ بھال کی اپیل کی گئی تھی۔

نئے خط میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ خط سیاست دانوں کی حیثیت سے نہیں بلکہ سابق ساتھیوں اور حریفوں کی حیثیت سے لکھا گیا تھا، جن کا تعلق کرکٹ کے میدان میں قائم ہوا تھا۔

اس مرتبہ اس اپیل میں مزید سات سابق کپتان بھی شامل ہوئے ہیں۔

خط پر دستخط کرنے والوں میں مائیکل ایتھرٹن، الیکس بلیک ویل، ایلن بارڈر، مائیکل بئیرلی، گریگ چیپل، این چیپل، بلنڈا کلارک، سر ایلسٹائر کک، سنیل گواسکر، لی جیرمون، ایڈم گلکرسٹ، ڈیوڈ گوور، کم ہیوز، ناصر حسین، سر کلائیو لائیڈ، کپل دیو، ارجنا راناتنگا، اینڈریو اسٹراس، دلیپ وینگسارکر، اسٹیفن واہ اور جان رائٹ شامل ہیں۔

یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ نے منگل کو عمران خان کو علاج کے لیے اسلام آباد کے نجی شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم حکام نے جمعے کو انہیں سرکاری ہسپتال میں طبی معائنے کے بعد دوبارہ جیل منتقل کردیا۔

عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو گزشتہ سال کے آخر میں ایک مقدمے میں 17،17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف ان مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔

عمران خان 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیراعظم رہے، تاہم سیاسی بحران کے دوران تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

اس کے بعد انہیں کرپشن سمیت متعدد مقدمات کا سامنا ہے، جنہیں عمران خان اور پی ٹی آئی سیاسی نوعیت کے مقدمات قرار دیتے ہیں۔

مئی 2023 میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے، جن میں بعض مقامات پر تشدد بھی ہوا اور سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا۔

عمران خان نے 1971 سے 1992 کے دوران پاکستان کی جانب سے 88 ٹیسٹ اور 175 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے اور 1992 میں پاکستان کو اس کا واحد ون ڈے ورلڈ کپ جتوایا تھا۔