محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ پبلک نوٹس کے مطابق یہ ہدایات پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (پروموشن اینڈ ریگولیشن) آرڈیننس 1984 کے سیکشن 7A(10) کے تحت جاری کی گئی ہیں۔

پبلک نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کوئی نجی اسکول والدین پر دباؤ ڈالے یا انہیں کسی خاص آؤٹ لیٹ سے کتابیں، یونیفارم یا دیگر سامان خریدنے پر مجبور کرے تو یہ قانون کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوگی۔

محکمہ تعلیم نے خبردار کیا ہے کہ ایسی خلاف ورزی کے مرتکب نجی تعلیمی اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں جرمانے اور قوانین و ضوابط میں درج دیگر سزائیں بھی شامل ہوں گی۔

پبلک نوٹس میں والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی اقدامات کی فوری طور پر شکایت متعلقہ ضلع کی ڈسٹرکٹ رجسٹریشن اتھارٹی (ڈی آر اے)، چیف ایگزیکٹو آفیسر یا ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کو درج کروائیں۔

اس کے علاوہ شہریوں کو آن لائن شکایات کے لیے حکومت پنجاب کے سٹیزن ریلیشن شپ مینجمنٹ پورٹل سے رجوع کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

محکمہ تعلیم کے مطابق حکومت والدین کے حقوق کے تحفظ اور تعلیمی شعبے میں من مانی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔