صحت اور غذائیت سے متعلق ایک اہم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ ہیلتھ کیئر ماڈل درحقیقت “سِک کیئر سسٹم” بن چکا ہے، جہاں توجہ زیادہ تر بیماری کے علاج پر دی جاتی ہے، جبکہ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ بیماریوں کی روک تھام کو ترجیح دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ محض نئے اسپتالوں کی تعمیر یا ڈاکٹرز کی بھرتی مسائل کا مکمل حل نہیں، بلکہ پورے نظام کو ازسرِ نو ترتیب دینا ہوگا، صحت کے شعبے میں ایک مربوط ایکو سسٹم کی تشکیل ناگزیر ہے، جس میں بنیادی صحت کی سہولیات، صاف پانی کی فراہمی، متوازن غذا اور عوامی آگاہی جیسے عناصر شامل ہوں۔
مصطفیٰ کمال نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو بھی اپنی طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانا ہوں گی، کیونکہ صحت مند معاشرہ صرف حکومتی اقدامات سے نہیں بلکہ اجتماعی شعور سے ممکن ہے،وزارت صحت بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ لوگوں کو ابتدائی سطح پر ہی بہتر سہولیات میسر آ سکیں۔
زیر صحت نے بڑھتی ہوئی آبادی کو بھی صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ تیزی سے بڑھتی آبادی کے باعث اسپتالوں، ڈاکٹرز اور طبی عملے پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق آبادی میں توازن لانا اور وسائل کا بہتر استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں فلاحی پروگرامز: 16 لاکھ سے زائد افراد مستفید، مزید اقدامات کی منظوری
COVID-19 کی مثال دیتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ عالمی وبا نے یہ ثابت کر دیا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک بھی اچانک بڑھنے والے مریضوں کے بوجھ کو مکمل طور پر سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، کوئی بھی سپر پاور ایک ہی وقت میں پوری آبادی کے بیمار ہونے کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی، اسی لیے احتیاطی تدابیر اور پیشگی حکمت عملی انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئی ہیلتھ اسٹریٹجی کے تحت اسپتالوں پر بوجھ کم کرنے، بنیادی صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے اور عوام کو صحت مند رکھنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ صاف پانی کی فراہمی، ادویات کی دستیابی اور طبی عملے کی کمی جیسے مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
آخر میں مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں صحت کا نظام مزید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے، لہٰذا حکومت ایک طویل المدتی حکمت عملی کے تحت صحت کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے پرعزم ہے۔







