ذرائع کے مطابق، نیب نے اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر سوات سے متعلقہ ریکارڈ اور معلومات طلب کر لی ہیں۔
نیب کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ خط (نمبر: 1/869/IW-II/NABKP324153/811، مورخہ 22 اکتوبر 2025) میں کہا گیا ہے کہ یہ تحقیقات نیشنل اکاؤنٹیبلٹی آرڈیننس (NAO) 1999 کی دفعہ 19 کے تحت کی جا رہی ہیں۔
خط کے مطابق، ڈپٹی کمشنر سوات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 28 اکتوبر 2025 تک تمام مطلوبہ معلومات اور تصدیق شدہ دستاویزات نیب خیبر پختونخوا کے دفتر، حیات آباد پشاور میں جمع کرائیں۔
نیب نے ڈپٹی کمشنر سے جن تفصیلات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے، ان میں ریستوران یونیک کچن (واقع بلو ایریا، فیض آباد، سیدو شریف، سوات) کی ملکیت، رجسٹریشن اور آپریشنل حیثیت سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ، اولڈ مینگورہ بس ٹرمینل کے علاقے میں جائیداد کی خرید و فروخت سے متعلق ریکارڈ، ٹرانسفر ڈیڈز، رجسٹری اور ٹیکس تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔
یہ تمام معلومات فاضل حکیم خان، ان کے اہل خانہ اور قریبی رشتہ داروں سے متعلق فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نیب نے خبردار کیا ہے کہ تمام فراہم کردہ معلومات درست اور مستند ہونی چاہئیں، بصورت دیگر غلط بیانی یا حقائق چھپانے کی صورت میں نیشنل اکاؤنٹیبلٹی آرڈیننس 1999 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
واضح رہے کہ فاضل حکیم خان خیبر پختونخوا اسمبلی کے حلقہ PK-6 (سوات-IV) سے منتخب رکن اور صوبائی کابینہ میں اہم عہدے پر فائز ہیں۔
واضح رہے کہ نیب کی اس کارروائی کے بعد صوبائی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان اس پیشرفت پر گرما گرم بحث جاری ہے۔







