رپورٹ کے مطابق منصوبے کو مالی سال کے دوران 29 ارب 41 کروڑ روپے کا خالص خسارہ ہوا، جب کہ 2022 میں ٹیل ریس ٹنل اور مئی 2024 میں ہیڈ ریس ٹنل منہدم ہونے کے بعد پاور ہاؤس کی طویل بندش کے باعث 99 ارب 18 کروڑ روپے سے زائد کا کاروباری نقصان ریکارڈ کیا گیا۔
آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہیڈ ریس اور ٹیل ریس ٹنلز کے بار بار منہدم ہونے کی تحقیقات تاحال مکمل نہیں ہو سکیں، جس کے باعث نہ صرف ذمہ داروں کا تعین نہیں ہو سکا بلکہ منصوبے کی بحالی بھی غیر معمولی تاخیر کا شکار ہے۔
رپورٹ کے مطابق منصوبہ انتظامیہ تکنیکی نقائص دور کرنے، اہم انشورنس پالیسیوں کی بروقت تجدید اور ٹنلز کے گرنے سے ہونے والے نقصانات کے انشورنس کلیمز حاصل کرنے میں بھی ناکام رہی، جب کہ 267 ارب روپے مالیت کے اثاثے آڈٹ مدت کے دوران بغیر انشورنس کے رہے۔
آڈیٹر جنرل نے انکشاف کیا کہ منصوبہ اپنے قیام سے لے کر آج تک کسی بھی سال 5,150 گیگا واٹ آور سالانہ بجلی پیداوار کے ہدف کو حاصل نہیں کر سکا، حتیٰ کہ ان ادوار میں بھی جب پاور پلانٹ مکمل طور پر فعال تھا۔
5 ارب ڈالر لاگت سے بننے والا نیلم جہلم منصوبہ بندش کے بعد بڑے نقصانات کی زد میں آگیا, نیلم جہلم ہائیڈرو پاور کمپنی کو 29 ارب 41 کروڑ روپے سے زائد خالص خسارے کا انکشاف, آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے سے متعلق خصوصی رپورٹ جاری#NeelumJhelum #BreakingNews… pic.twitter.com/ZatNAxRVHK
— 365 News (@365dotNews) July 11, 2026
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ نیپرا کی جانب سے ریفرنس ٹیرف کی منظوری نہ ملنے کے باعث منصوبے کو 77 ارب 35 کروڑ روپے کی متوقع ریگولیٹری آمدن سے بھی محروم رہنا پڑا۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق 30 جون 2025 تک منصوبے کی موجودہ واجبات، موجودہ اثاثوں سے 307 ارب 89 کروڑ روپے زیادہ ہو چکی تھیں، جس کی بڑی وجہ قرضوں کی ادائیگی میں ڈیفالٹ اور طویل مدتی قرضوں کو موجودہ واجبات میں منتقل کرنا قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ منصوبہ مقررہ مدت میں اپنی سرمایہ کاری واپس حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ 418 ارب 89 کروڑ روپے کی منظور شدہ لاگت کے مقابلے میں مالی سال 2024-25 کے اختتام تک صرف 180 ارب 17 کروڑ روپے ہی وصول کیے جا سکے، جب کہ قابل وصول رقوم کا 69 فیصد حصہ 120 دن سے زائد عرصے سے واجب الادا ہے، جو مالیاتی نظم و نسق اور نقدی کے بہاؤ میں سنگین کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
آڈیٹر جنرل نے نتیجہ اخذ کیا کہ بجلی کی پیداوار میں مسلسل کم کارکردگی، طویل بندش، ٹیرف کی منظوری میں تاخیر، بڑھتے ہوئے قرضے اور ناکافی رسک مینجمنٹ کے باعث نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبہ اپنے مالی اور آپریشنل اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ٹنلز کے انہدام سے متعلق زیر التوا تحقیقات فوری مکمل کی جائیں، ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جائے، انشورنس کلیمز کے حصول کو یقینی بنایا جائے اور قومی اہمیت کے اس منصوبے کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید مالی نقصانات سے بچا جا سکے۔







