میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ گزشتہ شب پیش آنے والا واقعہ برساتی نالے میں ہوا، نہ کہ سیوریج نالے میں۔ وہ والدین کے غم میں شریک ہیں اور متاثرہ خاندان کی ہر ممکن مدد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 500 میٹر کے علاقے میں کھدائی کی جا چکی ہے اور بچے کی تلاش کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم ڈی واٹر کارپوریشن کو تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کونسی مشینری استعمال ہونے سے روکی گئی اور اگر عملے کی کوتاہی ثابت ہوئی تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: میئر کراچی نے تمام ادارے اپنے کنٹرول میں لے لیے، قبضے کے خلاف مزاحمت کریں گے، حافظ نعیم الرحمٰن


انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں 88 ہزار مین ہول کور لگائے گئے، جبکہ واٹر کارپوریشن نے 55 فیصد یوسی چیئرمینز کو ڈھکن فراہم کیے۔ شہر کے بیچ ڈپارٹمنٹل اسٹور اور اسپتال کے قریب کھلے مین ہول کی تحقیقات بھی کی جائیں گی تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ کتنے دن سے کھلا تھا یا کھولا گیا۔

میئر نے کہا کہ اس علاقے کا ٹاؤن چیئرمین جماعت اسلامی کا ہے اور اگر الزام جماعت اسلامی پر ڈالا گیا تو لوگ ناراض ہو جائیں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ معاملے کو سیاسی نہ بنایا جائے اور تحقیقات مکمل کر کے ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جائے۔