مقامی سرچ اینڈ ریسکیو کے سربراہ آئی پوتو سودایانا کے مطابق ’ویرگو ٹرانسپورٹ 8‘ نامی بحری جہاز پر عملے اور مسافروں سمیت 243 افراد سوار تھے۔ جہاز مشرقی جاوا کے شہر سورابایا سے روانہ ہوا تھا، تاہم اتوار کی صبح اس کا شپنگ کمپنی سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
اے ایف پی کے مطابق، بانجارماسن کی بندرگاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سودایانا نے تصدیق کی کہ اب تک 103 مسافروں کو کامیابی سے نکال لیا گیا ہے جبکہ ایک مسافر ہلاک ہوا ہے۔
امدادی کارکنوں کو متاثرہ جہاز تک پہنچنے کے لیے ڈھائی میٹر، یعنی تقریباً 8 فٹ اونچی لہروں کا سامنا کرنا پڑا۔
ریسکیو چیف کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال بحری جہازوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ حتیٰ کہ 40 میٹر لمبی کوسٹ گارڈ کشتی کے لیے بھی یہ آپریشن انتہائی خطرناک تھا۔
رابطہ منقطع ہونے سے قبل جہاز کے کپتان نے اطلاع دی تھی کہ پانی کے شدید بہاؤ کی وجہ سے جہاز ایک طرف جھک رہا ہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق جہاز بحرِ جاوا میں اپنی منزل سے تقریباً 150 کلومیٹر دور تھا۔
انڈونیشیا 17 ہزار سے زائد جزائر پر مشتمل ملک ہے، جہاں روزمرہ نقل و حمل اور سیاحت کا دارومدار زیادہ تر بحری سفر پر ہے۔ تاہم حفاظتی تدابیر کے ناقص انتظامات اور اچانک بدلتا موسم اکثر ایسے خوفناک حادثات کا سبب بنتے ہیں۔
پیر کے روز آنک کراکاٹاؤ آتش فشاں کے قریب 8 افراد کو لے جانے والی ایک تیز رفتار بوٹ لاپتہ ہوگئی تھی، جس میں مقامی اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے 5 صحافی بھی شامل تھے۔ یہ ٹیم آتش فشاں کے دھماکے کی کوریج کے لیے جا رہی تھی۔
اگست میں بالی اور لومبوک کے درمیان سفر کرنے والے ایک مسافر جہاز میں آگ لگنے سے ایک شخص ہلاک اور 5 لاپتہ ہوگئے تھے، جبکہ 211 افراد کو بچایا گیا تھا۔
سلایار جزیرے کے قریب 70 سے زائد مسافروں کو لے جانے والی ایک اور کشتی بھی ڈوبنے کا شکار ہوئی تھی۔







