سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق سرکاری ترجمان نے بیان میں کہا کہ الطوال کمشنری میں پروجیکٹائل گرنے کے بعد سول ڈیفنس کی ٹیموں نے فوری ردعمل دیا۔ حملے کے نتیجے میں ایک مسجد، عمارتوں اور کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

ترجمان نے شہری املاک کو نشانہ بنائے جانے کو بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے طے شدہ طریقہ کار پر عمل کیا گیا۔

یہ حملہ مملکت میں سکیورٹی کشیدگی کے درمیان ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے جنوبی علاقے پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے ایک سلسلے کے بعد کشیدگی بڑھی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ منگل کو حوثی ملیشیا کے حملوں میں ابھا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کے شہروں میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی ہوئے۔

اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے حوثیوں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ جان بوجھ کر سعودی عرب کے قومی بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔