خواتین کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 20 ستمبر کو ہم اسلام آباد آرہے ہیں، ہمیں جینے دو، ہم اپنا حق مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کنٹینر لگاتی رہے، جماعت اسلامی پرامن رہے گی، تاہم اگر اسے جمہوری حق سے روکا گیا تو چاروں طرف سے اسلام آباد کی طرف آئیں گے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مارچ کے وقت سب دیکھیں گے کہ عوام کس قوت کے ساتھ نکلتے ہیں۔ جماعت اسلامی کا مطالبہ اپنے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے ہے اور یہ ہر شخص کا مسئلہ ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ لیوی کا پیٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں، حکومت جھوٹ بول رہی ہے، پیٹرولیم لیوی دراصل بھتہ ٹیکس ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت 30 فیصد سے زائد بھتہ ٹیکس وصول کر رہی ہے، اپنے اخراجات کم نہیں کرتی اور غریبوں کی جیبوں پر ڈاکا ڈال رہی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ لیوی ختم کرنے سے آئی ایم ایف ناراض ہوجائے گا، لیکن سوال یہ ہے کہ 11 ارب روپے کا جہاز خریدتے وقت کیا آئی ایم ایف سے پوچھا گیا تھا؟
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ قوم سے ہر چیز پر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے اور عام آدمی کو نچوڑا جا رہا ہے۔ جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو بائیکیا چلانے والا بھی متاثر ہوتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بیرون ملک گئے تو کروڑوں روپے کے اخراجات ہوئے، بتایا جائے کہ یہ اخراجات کہاں سے کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں مریم نواز نے 11 ارب روپے کا جہاز خریدا، جب کہ حکمران اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے تیار نہیں اور غریب عوام کی جیبوں پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے پنجاب میں تعلیمی صورتحال پر بھی تنقید کی اور کہا کہ پنجاب میں نویں جماعت کے 52 فیصد بچے فیل ہوگئے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ سب کو یکساں تعلیم فراہم کرے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مریم نواز نے پنجاب میں 11 ہزار اسکول بیچ دیے ہیں جبکہ بنیادی مراکز صحت بھی فروخت کیے جا رہے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سب کچھ تباہ کردیا گیا لیکن حکمران اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں 8 کروڑ مزدور دیہاڑی دار ہیں، جن میں سے 84 فیصد کو بنیادی حقوق بھی حاصل نہیں۔ ان کے مطابق یہ استحصالی طبقہ لوگوں کو ان کا آئینی حق نہیں دے رہا۔
انہوں نے کہا کہ ایک چھوٹا سا دو فیصد طبقہ پاکستان کے 98 فیصد عوام کو کھا رہا ہے اور آئی پی پیز کو بجلی پیدا نہ کرنے کے باوجود پیسے دیے جا رہے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آج 28 واں دن ہے اور پورے پاکستان میں 35 مقامات پر دھرنے جاری ہیں۔ اس احتجاج کو مزید بڑھانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ان ظالموں کے خلاف اگر آواز نہیں اٹھائیں گے تو حالات نہیں بدلیں گے۔ پیٹرولیم لیوی کی صورت میں ’بھتہ‘ کسی صورت منظور نہیں۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اس نظام کو بدلنے کے لیے تحریک شروع کردی ہے۔ حکومت نے مطالبات نہ مانے تو لیوی کے خاتمے کی تحریک کو حکومت کے خاتمے کی تحریک میں تبدیل کردیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ 20 ستمبر کو ہم اسلام آباد کی طرف چلیں گے اور نکلیں گے، ہم آگے بڑھیں گے اور حکومت کو مجبور کریں گے کہ اسے عوام کا حق دینا ہوگا۔







