ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اس حوالے سے نئی اصلاحات نافذ کر دی گئی ہیں، جن کے تحت خواتین اب پاسپورٹ میں والد کا نام شامل کرا سکیں گی۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں کیا گیا۔ عدالت نے حکومت کو متعلقہ مشاورت مکمل کرنے اور نظام میں ضروری تبدیلیاں لانے کی ہدایت دی تھی۔
حکام کے مطابق یہ اقدام خواتین کی آزاد قانونی شناخت کو تسلیم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ اس ترمیم سے خواتین کو معاشی، سماجی اور شہری حقوق کے حصول میں درپیش ایک بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔ مزید کہا گیا کہ یہ اصلاحات حکومت اور یو این ویمن کے باہمی تعاون سے جینڈر ریسپانسیو سروس ڈیلیوری کی عملی مثال ہیں۔
بیان کے مطابق وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی ہدایات پر یہ اصلاحات مرتب کی گئیں، جبکہ ڈی جی پاسپورٹس مصطفیٰ جمال قاضی نے سافٹ ویئر اپڈیٹ کے عمل کی نگرانی کی۔







