وزارت کی جانب سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے دعوے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے، سیکیورٹی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور مخصوص سیاسی مفادات کے حصول کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ تیراہ کے میدان علاقے میں 9 جنوری سے بعض خاندانوں کی نقل و حرکت ایک متوقع سیکیورٹی آپریشن کی تیاری کے سلسلے میں شروع ہوئی، جو دو ماہ کے اندر مکمل ہو جائے گا، جب کہ متاثرہ افراد کی بحالی اور واپسی 5 اپریل سے متوقع ہے۔

وزارتِ اطلاعات کے مطابق نہ وفاقی حکومت اور نہ ہی مسلح افواج نے علاقے کو خالی کرانے کا کوئی حکم دیا ہے۔ تیراہ وادی، خیبر ضلع میں افغان سرحد کے قریب واقع ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گرد عناصر کے خلاف معمول کے مطابق ٹارگٹڈ اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کر رہے ہیں، جن کا مقصد پرامن شہری زندگی کو متاثر کیے بغیر امن و امان قائم رکھنا ہے اور اس کے لیے کسی قسم کی جبری نقل مکانی یا علاقے کو خالی کرانے کی ضرورت نہیں۔

وزارت نے واضح کیا کہ تیراہ کے مقامی باشندے خود بھی شدت پسندوں کی موجودگی پر تحفظات رکھتے ہیں اور علاقے میں امن و استحکام چاہتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ خیبر پختونخوا کے ریلیف، بحالی اور آبادکاری ڈیپارٹمنٹ نے 26 دسمبر 2025 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس کے تحت تیراہ کے بعض علاقوں سے متوقع عارضی اور رضاکارانہ نقل و حرکت کے لیے تقریباً 4 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے گئے۔

وزارت کے مطابق صوبائی حکومت نے پیشگی تیاری اور امدادی انتظامات کے لیے سہولت فراہم کرنے کی درخواست کی تھی، جس میں ٹرانسپورٹ، خوراک، نقد امداد، ٹرانزٹ اور رجسٹریشن پوائنٹس کا قیام شامل تھا۔

لازمی پڑھیں: نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں، خواجہ آصف

سرکاری دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے وزارت نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر خیبر نے آگاہ کیا تھا کہ یہ رضاکارانہ نقل مکانی مقامی آبادی کی خواہشات کے مطابق ہے، جس کا اظہار نمائندہ جرگے کے ذریعے کیا گیا، اور اس میں موسمی، لاجسٹک اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھا گیا ہے، جب کہ کیمپ فری ماڈل اپنایا گیا ہے۔

وزارتِ اطلاعات نے صوبائی حکومت یا اس کے کسی عہدیدار کی جانب سے نقل مکانی کو مسلح افواج سے جوڑنے والے بیانات کو بھی مسترد کرتے ہوئے انہیں من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ ایسے بیانات کا مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا اور سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنا ہے۔

دوسری جانب جمعے کے روز تیراہ وادی سے نقل مکانی کرنے والے کئی خاندان شدید برفباری اور سرد موسم کے باعث برف سے ڈھکی سڑکوں پر پھنس گئے، جس پر ریسکیو آپریشن کیا گیا۔

ریسکیو 1122 کے مطابق برف میں پھنسنے والی 25 سے زائد گاڑیوں میں سوار 65 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ شدید سردی کے باعث بچوں میں ہائپوتھرمیا کے کئی کیسز بھی سامنے آئے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ کے ذمہ داران کو کٹہرے میں لایا جائے گا، میئر کراچی

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے حکام کے مطابق کم از کم 20 بچوں کو کپکپی، کمزوری اور جسمانی درجہ حرارت میں کمی کی علامات کے ساتھ اسپتال منتقل کیا گیا۔

پاک فوج نے بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے 20 پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ تیراہ ایڈمنسٹریٹو کمپلیکس میں 200 بستروں پر مشتمل عارضی مرکز قائم کیا گیا ہے جہاں متاثرہ خاندانوں کو خوراک، گرم رہائش اور بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔