سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق اپنے بیان میں وزیرِ مملکت نے کہا کہ وادی تیراہ سے متعلق پھیلائی جانے والی خبریں حقائق پر مبنی نہیں بلکہ ایک مخصوص سیاسی بیانیے کے تحت قومی اداروں کا نام لیا جا رہا ہے، تاکہ انتظامی امور میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور سیکیورٹی ادارے ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے پرعزم ہیں اور کوئی بھی نیا قدم تمام اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لے کر ہی اٹھایا جائے گا۔
وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ وادی تیراہ سے لوگوں کی منتقلی اور اس مد میں مختص کی گئی چار ارب روپے کی رقم کی شفافیت کو یقینی بنانا ضروری ہے، کیونکہ جیسے ہی یہ رقوم جاری کی گئیں، وہاں سے منفی پروپیگنڈا شروع کر دیا گیا تاکہ اصل حقائق کو چھپایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ملک کے کسی بھی حصے میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کوئی کارروائی کی جاتی ہے تو وہ نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہوتی ہے، جس پر تمام سیاسی جماعتوں، بشمول خیبر پختونخوا کی موجودہ صوبائی حکومت، کا مکمل اتفاقِ رائے موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو اسپتال لائے اور واپس جیل بھی لے گئے، اس حوالے سے ہمیں کیوں نہیں بتایا گیا؟ اپوزیشن اتحاد
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہونے والے ہر عمل میں صوبائی حکومت مکمل طور پر شریک اور باخبر ہوتی ہے۔
وزیرِ مملکت نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت کی ترجیح شفافیت اور امن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی آپریشن کرنا ہوگا وہ اعلانیہ اور سب کو بتا کر کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت کا وادی تیراہ سے ہونے والی ہجرت کے حوالے سے مؤقف ہے کہ لوگ کسی فوجی آپریشن کی وجہ سے اپنے گھروں کو نہیں چھوڑ رہے، بلکہ شدید سردی کے باعث عارضی نقل مکانی کر رہے ہیں۔






