تفصیلات کے مطابق جرگہ ممبر ملک کمال الدین نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خیبر انتظامیہ اور مختلف قبائل پر مشتمل 24 رکنی جرگے کا اجلاس گزشتہ روز خیبر ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں سکیورٹی فورسز اور صوبائی حکومت کی اعلیٰ قیادت نے کچھ ترامیم کے بعد 27 نکاتی معاہدے کی تمام شقوں کی منظوری دے دی۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے مطابق 10 جنوری سے علاقے کو خالی کرنے کا عمل شروع ہو جائے گا، جو 25 جنوری تک مکمل کیا جائے گا، جب کہ متاثرہ خاندانوں کی واپسی کا سلسلہ 25 اپریل سے شروع کیا جائے گا۔

معاہدے کے تحت مکمل طور پر تباہ ہونے والے گھروں کے معاوضے کی رقم 80 لاکھ روپے سے کم کرکے 30 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، جب کہ جزوی طور پر متاثرہ گھروں کے لیے بھی 30 لاکھ روپے معاوضہ طے کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ نقل مکانی کے دوران ہر متاثرہ خاندان کو ڈھائی لاکھ روپے نقد امداد فراہم کی جائے گی، جب کہ ماہانہ 50 ہزار روپے بھی دیے جائیں گے۔

جرگہ ممبر کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو طبی سہولیات، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی۔ اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دوتوئی، حیدر کنڈو، تور توت، کرم ایجنسی کے سرحدی علاقے اور راجگال کے مکین نقل مکانی کریں گےاور انہوں نے معاہدے کی تصدیق بھی کی ہے۔

یاد رہے کہ 11 دسمبر کو وادیٔ تیراہ کی اقوام کا ایک نمائندہ جرگہ منعقد ہوا تھا، جس میں قمبر خیل، ملک دین خیل، شلوبر، آدم خیل، اکاخیل اور ذخہ خیل قبائل پر مشتمل 24 رکنی جرگے نے 27 نکات پر مبنی شرائط نامہ حکومت کو ارسال کیا تھا۔


ان شرائط میں یہ مطالبہ بھی شامل تھا کہ جب تک یہ یقین دہانی نہ کرائی جائے کہ آئندہ علاقے میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہوگا اور حالات دوبارہ خراب نہیں ہوں گے، نقل مکانی پر رضامندی نہیں دی جائے گی۔ یہ شرط بھی منظور کر لی گئی ہے۔ اس کے علاوہ واپسی کے بعد علاقے کے مکینوں سے کسی قسم کی امن کمیٹی تشکیل نہیں دی جائے گی۔

مزید یہ بھی طے پایا ہے کہ امن و امان کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی، جب کہ سکیورٹی فورسز کے قبضے میں موجود تمام گھروں کو ان کے اصل مالکان کے حوالے کیا جائے گا۔

ملک کمال الدین کے مطابق انتظامیہ نے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے، تاہم انہوں نے بتایا کہ معاہدے کی کاپی کو عوامی سطح پر شیئر کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں بشمول ٹانک، وادیٔ تیراہ اور باجوڑ میں حالیہ عرصے کے دوران بدامنی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی ٹارگٹڈ کارروائیوں کے دوران شہریوں کی مبینہ ہلاکتوں پر مقامی آبادی کی جانب سے احتجاج بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صیہونی ریاست کو تسلیم کرنا تو دور کی بات، سعودی عرب اس وقت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر بھی غور نہیں کر رہا، شہزادہ ترکی الفیصل

گزشتہ چند ماہ کے دوران خیبر پختونخوا میں شہری ہلاکتوں کے کم از کم دو واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ جولائی میں وادیٔ تیراہ میں ایک مکان پر مارٹر گولہ گرنے سے ایک بچی جاں بحق ہوئی تھی، جس کے بعد ہونے والے احتجاج کے دوران فائرنگ سے مزید پانچ افراد جان سے گئے تھے۔

اسی طرح جولائی ہی میں ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران تین شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔