شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ اسرائیل سے تعلقات صرف اس صورت میں بحال کیے جا سکتے ہیں جب وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق رویہ اختیار کرے اور فلسطینی مسئلے کا منصفانہ اور دیرپا حل سامنے آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کسی بھی قسم کے تعلقات اسرائیل کے ساتھ اس وقت تک قائم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی مسئلے کا حل دو ریاستی فارمولے کے تحت طے نہیں پایا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی موقف میں نہ کوئی ابہام ہے اور نہ ہی تبدیلی آئی ہے، آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہی کسی بھی ممکنہ پیش رفت کی بنیاد ہو سکتی ہے۔
اس موقع پر انہوں نے 2002 کے عرب امن منصوبے کا حوالہ بھی دیا، جس میں 1967 سے قبل کی سرحدوں اور فلسطینی مہاجرین کے مسئلے کے منصفانہ حل پر زور دیا گیا تھا۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے اسرائیلی صحافی کو یاد دلایا کہ سعودی عرب نے ماضی میں بھی امن عمل میں حصہ لیا، جیسا کہ 1991 کی میڈرڈ امن کانفرنس کے بعد ہوا، لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں ہوا کیونکہ اسرائیل امن کے لیے کسی قیمت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر بھی تنقید کی اور کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں جاری کارروائیاں، شام اور لبنان میں فوجی موجودگی، جنگ بندی معاہدوں کی خلاف ورزی اور گریٹر اسرائیل جیسے بیانات اعتماد پیدا نہیں کرتے۔
امریکی دباؤ سے متعلق سوال کے جواب میں شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ سعودی عرب اپنی خارجہ پالیسی اپنے قومی مفادات کے مطابق ترتیب دیتا ہے اور کسی بیرونی دباؤ میں آ کر فیصلے نہیں کرتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے خود وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کے سامنے واضح کر دیا تھا کہ دو ریاستی حل کے بغیر اسرائیل سے معمول کے تعلقات قائم کرنا ممکن نہیں۔
انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے سے پہلے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کے قریب تھے اور کہا کہ یہ محض قیاس آرائیاں تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلادیش: پولیس نے نوجوان رہنما عثمان ہادی کو قتل کرنے والے مرکزی ملزم کی شناخت کرلی
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا موقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ فلسطینی مسئلے کے حل کے بغیر اسرائیل کے ساتھ کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی۔
اپنے خطاب کے اختتام پر شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ اگر موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم کے بعد کوئی نیا رہنما آئے گا تو اسے بھی دو ریاستی حل کو تسلیم کرنا ہوگا۔
انہوں نے اسرائیلی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ آپ پر ہے کہ امن کا راستہ اختیار کریں یا نہیں، لیکن سعودی عرب کے اصولی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔






