سماعت کے آغاز میں اسلامک یونیورسٹی کے وکیل نے بتایا کہ یونیورسٹی کے ریکٹر کو عبوری طور پر چیئرمین ہائر ایجوکیشن کا اضافی چارج دیا گیا تھا، تاہم موجودہ چیئرمین ریٹائر ہو چکے ہیں اور اس وقت یونیورسٹی میں مستقل ریکٹر تعینات نہیں ہے۔
وکیل کا کہنا تھا کہ ریکٹر کی تعیناتی صدرِ پاکستان بطور چانسلر کرتے ہیں اور آئینی عدالت کو انٹراکورٹ اپیلیں سننے کا اختیار حاصل نہیں۔
ملتان انجینئرنگ یونیورسٹی کے وکیل نے بھی عدالت کے اختیارِ سماعت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ مستقل وائس چانسلرز کی تعیناتی سے متعلق سپریم کورٹ پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے۔
ان کے مطابق اس فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کی گئی تھی جو ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہوئی، مگر آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف ’کورٹ آف اپیل‘ نہیں ہے۔
بینچ نے استفسار کیا کہ آیا واقعی ترمیم کے بعد وفاقی آئینی عدالت کو ایسے فیصلوں کے خلاف اپیل سننے کا اختیار حاصل ہے یا نہیں؟
جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ 27ویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 184/3 سمیت ازخود نوٹس کا اختیار بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
عدالت نے مزید وضاحت کیلئے وکلاء کو متعلقہ درخواستیں دائر کرنے کی ہدایت کی اور سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کردی۔







