وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس ایوان کے سامنے بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے اور میں تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو تسلیم کرتی ہے اور کئی ممالک پاکستانی جنگی طیاروں کو اپنی افواج میں شامل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان نے دشمن کو ایسا جواب دیا جس کا دنیا نے نوٹس لیا۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاک چین تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہیں۔ یہ دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے۔ چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات ایک مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
وزیر خزانہ نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کے باعث عالمی منڈی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے ہر گھر کے بجٹ پر اضافی دباؤ پڑا۔ تاہم حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے 128 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی۔
انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ٹارگٹڈ سبسڈی کا نظام متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے مستحق افراد کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ موجودہ حکومت کا یہ تیسرا بجٹ ہے اور حکومت نے ایک مشکل معاشی صورتحال میں ذمہ داریاں سنبھالیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے انتھک محنت کے ذریعے معیشت کو استحکام دیا اور کئی اہم معاشی کامیابیاں حاصل کیں۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب اور ایران امریکا جنگ کے اثرات کے باوجود موجودہ مالی سال میں معاشی شرح نمو 3.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو 6.1 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے کی شرح نمو 4.1 فیصد رہی، جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطحوں میں شامل ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان کی معیشت کا حجم بڑھ کر 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جب کہ فی کس آمدن 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران پالیسی ریٹ میں تاریخی کمی ہوئی اور شرح سود 22 فیصد سے کم ہو کر 11.5 فیصد تک آ گئی ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ترسیلات زر بھی نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔ مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران ترسیلات زر 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ سال کے اختتام تک یہ 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح مالی سال 2022-23 کے 8.5 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد ہو چکی ہے، جو ٹیکس نظام میں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق جون 2023 میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 7.8 فیصد کے برابر تھا، جو موجودہ مالی سال کے اختتام تک کم ہو کر 4 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دو سال قبل پرائمری بیلنس میں جی ڈی پی کے 0.7 فیصد کے برابر خسارہ تھا، جبکہ موجودہ مالی سال میں اسے 1.6 فیصد سرپلس تک پہنچا دیا گیا ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ گزشتہ مالی سال میں افراطِ زر کی شرح 23.4 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد تک آ گئی تھی، جب کہ موجودہ مالی سال میں ایران امریکا کشیدگی کے باوجود اوسط مہنگائی تقریباً 7 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں مہنگائی میں اضافے کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال ہے اور جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے، مہنگائی کی شرح میں بھی کمی آ جائے گی۔







