احسن اقبال ان دنوں ڈھاکا میں بنگلہ دیش کے نومنتخب وزیرِ اعظم طارق رحمان کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے موجود ہیں، بنگلہ دیش کی عبوری قیادت کے سربراہ پروفیسر محمد یونس سے خصوصی ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے بنگلہ دیش میں حالیہ انتخابات کی کامیاب تکمیل اور جمہوری انتقالِ اقتدار پر مبارکباد پیش کی، پاکستان بنگلہ دیش میں نئی قیادت کے تحت استحکام، ترقی اور خوشحالی کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں ایک نئے اور مثبت باب کے آغاز پر زور دیا۔ احسن اقبال نے حالیہ مہینوں میں دوطرفہ تعلقات میں آنے والی مثبت پیش رفت کو سراہا، جس میں تجارتی روابط میں اضافہ، براہِ راست فضائی رابطوں کی بحالی اور عوامی سطح پر روابط کی تجدید شامل ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ موجودہ علاقائی اور جغرافیائی سیاسی حالات میں اقتصادی تعاون، علاقائی رابطہ کاری اور باہمی شراکت داری کو فروغ دینا ناگزیر ہے،جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور ترقی کے لیے تعاون کا دائرہ وسیع کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر نے پروفیسر محمد یونس کی عالمی سطح پر سماجی کاروبار اور جامع ترقی کے شعبے میں نمایاں خدمات کو سراہا، پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی تاکہ مشترکہ دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

احسن اقبال نے چیف ایڈوائزر کو پاکستان بنگلہ دیش نالج کوریڈور منصوبے کے تحت علامہ اقبال اسکالرشپس کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش کے طلبہ کا پہلا گروپ پاکستان کی ممتاز جامعات میں تعلیم کا آغاز کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں میں سرمایہ کاری اور تعلیمی تبادلوں کے فروغ سے دونوں ممالک کے درمیان دیرپا اعتماد اور طویل المدتی تعاون کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

احسن اقبال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان گہرے ثقافتی، تاریخی اور سماجی روابط موجود ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان تعلقات کو منظم اقتصادی شراکت داریوں، تعلیمی تبادلوں اور علاقائی تعاون میں ڈھالا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کا مشترکہ مستقبل مربوط تجارت، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور جنوبی ایشیا میں ایک مستحکم و خوشحال ماحول کے قیام سے وابستہ ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ اعلیٰ سطحی روابط دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی جانب اہم قدم قرار دیے جا رہے ہیں، جو مستقبل میں اقتصادی اور تعلیمی تعاون کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔