انہوں نے مزید کہاکہ اگر نیا وزیراعلیٰ وفاق سے ہدایات نہیں لے گا، تو کیا وہ کابل سے ہدایات لے گا؟
یہ بیان انہوں نے پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے اس مؤقف کے جواب میں دیا، جس میں راجہ نے کہا تھا کہ کے پی حکومت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ خود کو وفاقی حکومت کی "ناکام پالیسیوں" سے دور رکھے۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے نامزد امیدوار سہیل آفریدی کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
گنڈا پور نے فیس بک پر اپنے بیان میں کہا،“میں اپنی پارٹی کے بانی [عمران خان] کی ہدایت پر وزیرِ اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔”
وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی کو “لوگوں کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرنے” کی عادت ہے۔انہوں نے کہا کہ گنڈا پور کی برطرفی سے تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما علی موسیٰ گیلانی نے اسی پروگرام میں بات کرتے ہوئے اس فیصلے کے وقت پر تنقید کی اور کہا کہ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور سیکیورٹی فورسز روزانہ قربانیاں دے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات اور انا کے مسائل ان کی حکمرانی کی صلاحیت سے زیادہ سنگین ہیں۔گنڈا پور کی برطرفی پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
حالیہ دنوں میں وزیراعلیٰ کے پی اوربانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کے درمیان الزامات کا تبادلہ ہوا تھا۔
علی امین گنڈا پور نے عمران خان کو ان “ویلاگرز” کے بارے میں خبردار کیا تھا جو پارٹی میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور علیمہ خان خود کومستقبل کی چیئرپرسن یہاں تک کہ وزیراعظم کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے واضح کیا کہ وزیرِ اعلیٰ کی تبدیلی کا علیمہ خان کی تنقید سے کوئی تعلق نہیں۔
ان کے مطابق صوبائی حکومت اپنی مذاکراتی پالیسی پر مؤثر انداز میں عملدرآمد نہیں کر سکی، لہٰذا نئے وزیرِ اعلیٰ کا تقرر پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔







